آیت اللہ خامنہ ای نے سیرت امام حسینؑ پر عمل کرتے ہوئے طاغوت کا غرور خاک میں ملادیا: معراج الہدیٰ صدیقی
شیعیت نیوز: جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے کہ طوفان الاقصیٰ کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا نے جان لیا کہ بیت المقدس کی آزادی کی ہر تحریک کے پیچھے انقلاب اسلامی ایران کی روح کارفرما ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حماس کی اس وقت قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جب اسماعیل ہنیہ ایران میں موجود تھے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ صہیونی حکومت جانتی ہے کہ ایران صرف نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی مزاحمت کے محور میں شامل ہے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے انکشاف کیا کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران پر وسیع جارحیت کا آغاز کیا، جس میں 200 سے زائد جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔ داخلی طور پر بھی موساد کے ایجنٹوں نے ایرانی عسکری قیادت اور نیوکلیئر سائنس دانوں کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش نظریۂ پاکستان سے غداری ہے، ڈاکٹر صابر ابو مریم
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایران کی قیادت، بالخصوص آیت اللہ خامنہای کی استقامت نے ملک کو سنبھالا رکھا۔ ابتدا میں ایسا لگ رہا تھا کہ اسرائیل کا پلڑا بھاری ہے، مگر ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ "آئرن ڈوم” تباہ ہو گیا، موساد کا ہیڈکوارٹر نشانہ بنا، اور اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا تاثر ٹوٹ گیا۔
امریکہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ایران نے جوابی حملے کیے اور قطر میں موجود امریکی العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا، تو واشنگٹن کو جنگ رکوانے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔ اس پوری صورتحال نے ایران کو دنیا کے سامنے ایک ایسی طاقت کے طور پر منوایا جو امریکہ کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اس جنگ میں صرف عسکری برتری نہیں بلکہ نظریاتی برتری بھی ثابت کی، جس کے بعد امریکی صدر شدید تذبذب کا شکار ہو گئے کہ جنگ جاری رکھیں یا پیچھے ہٹیں۔
آیت اللہ خامنہای کو دورِ حاضر کا محبوب ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیؑ اور امام حسینؑ کی سنت کو زندہ کیا ہے۔ وہ آج کے نمرود و فرعون کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور حسینیت کو زندہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے آیت اللہ خامنہای کو دی جانے والی دھمکی اور پاکستان کے عوامی ردعمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ آیت اللہ خامنہای کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں موجود حریت پسند عوام اس کا جواب دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام آیت اللہ خامنہای کی جرات، للکار اور انقلابی قیادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں۔ صرف جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر دردمند انسان آیت اللہ خامنہای کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے واضح کیا کہ آج جب کئی مسلم حکمران مغرب کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، ایران تنہا کھڑا ہے اور امتِ مسلمہ کے وقار و غیرت کی حفاظت کر رہا ہے۔







