مذاکرات سے نہ غیر معمولی امیدیں وابستہ ہیں، نہ ہی مایوسی؛ ہم اپنی صلاحیتوں پر پُرامید ہیں، آیت اللہ خامنہ ای
شیعیت نیوز : نئے ہجری شمسی سال کے آغاز کی مناسبت سے ایران کی مجریہ، عدلیہ اور مقننہ کے عہدہ داروں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ملک کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ عمان مذاکرات وزارت خارجہ کے درجنوں کاموں میں سے ایک ہیں، ملکی مسائل کو بات چیت سے نہ جوڑیں۔ ہم ان مذاکرات کے بارے میں نہ تو حد سے زیادہ پر امید ہیں اور نہ ہی حد سے زیادہ مایوسی کا شکار ہیں۔ بالآخر یہ ایک عمل ہے، پہلے مرحلے میں یہ مثبت رہا ہے۔ بلاشبہ ہم دوسری فریق کے بارے میں خوش فہمی کے شکار نہیں ہیں، لیکن ہم اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بہت پر امید ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکہ کی دھمکیوں کو مسترد کر کے مذاکرات میں برتری حاصل کرلی: المیادین
رہبر انقلاب نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے میں جس غلطی کا ارتکاب ہوا اسے یہاں نہ دہرایا جائے۔ جے سی پی او اے کے دور میں ہم نے ہر چیز کو مذاکرات کی پیشرفت پر منحصر کر دیا تھا، جب سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ ملک مذاکرات سے مشروط ہے تو وہ سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ سال کے نعرے پر عمل درآمد حکومت کے تینوں اعلیٰ شعبوں کا سنجیدہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔ عالم اسلام کو غزہ میں جرائم پیشہ ٹولے کی جارحیت کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرنی چاہئے۔
رہبر انقلاب نے ملاقات کے دوران پیروی کو ملکی اہداف کے حصول کا گمشدہ جز قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوانین و منصوبے موجود ہیں لیکن پیروی کا فقدان ہے۔ انہوں نے پٹرول کی زیادتی، تعلیمی انصاف اور کمزور طبقے کے مسائل جیسے امور پر سنجیدہ پیروی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے توانائی کی بچت کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے عوام اور سرکاری ادارے بچت کی عادت اپنائیں۔ سال کے نعرے کو عملی بنانے کے لیے تینوں ادارے متحرک ہوں اور پیداوار میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اگر داخلی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو غیرملکی سرمایہ کار بھی دلچسپی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیداوار میں سرمایہ کاری پابندیوں سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے، پابندیاں ہٹانا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن انہیں غیر مؤثر بنانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس کے لیے متعدد طریقے اور وسائل موجود ہیں۔
انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی بھی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ راستے بھی کھلے رکھے جائیں۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ عمان مذاکرات کا فیصلہ ابتدائی طور پر اچھا رہا، لیکن ہمیں احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا۔ مذاکرات کامیاب بھی ہو سکتے ہیں اور ناکام بھی، اس لیے ان سے غیر معمولی امیدیں یا مایوسیاں وابستہ نہ کی جائیں۔
آخر میں، رہبر انقلاب نے ساتویں پلان کے مضبوط نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ملک کی میکرو پالیسیوں پر انحصار کرتا ہے اور اسے پوری طاقت کے ساتھ نافذ ہونا چاہیے۔







