مجلس وحدت مسلمین کا 16واں مرکزی کنونشن، انٹرا پارٹی الیکشن 19 اپریل کو ہوں گے

14 اپریل, 2025 20:01

شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی اور جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی، علامہ عبدالخاق اسدی، سید اسد عباس نقوی، ملک اقرار حسین علوی، سید زاہد کاظمی، سلیم عباس صدیقی، علامہ ضیغم عباس اور آصف رضاکے ہمراہ پریس کانفرنس، تنظیمی مرکزی کنونشن، انٹرا پارٹی الیکشن اور پارا چنار کے آٹھ ماہ سے جاری محاصرے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو۔

مرکزی جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان جو کہ الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ جماعت ہے اپنا 16واں مرکزی کنونشن منعقد کر رہی ہے جس میں 19 اپریل بروز ہفتہ انٹرا پارٹی الیکشن ہوں گے اور اگلے تین سال کے لیے نئے پارٹی چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا، ہم میڈیا کے تمام نمائندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ تشریف لائیں اور انٹرا پارٹی الیکشن کی شفافیت کے مبصر بنیں، انٹرا پارٹی الیکشن جماعت کی دستوری اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک آئینی ضرورت ہے، 19 اپریل کو مرکزی چیئرمین کے لیے اسلام آباد میں الیکشن ہو گا، تین نام پیش کیے جائیں گے ان پر انتخابات ہوں گے، ووٹنگ کے لیے چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر گلگت بلتستان سے کارکنان شریک ہوں گے، جیت کے لیے 51فیصد ووٹ درکار ہوں گے، 20 اپریل کو نئے چیئرمین کے نام کا اعلان کیا جائے گا، مرکزی کنونشن میں عزاداری کانفرنس بھی ہو گی جس میں شہدائے اسلام و مقاومت اور پارا چنار کے شہداء پر بات ہوگی، جس سے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سینیٹر مشتاق احمد خان، علامہ سید علی رضا رضوی سمیت دیگر علمائے کرام خطاب کریں گے، کنونشن کے آخری دن بیس اپریل اتوار کو استحکام پاکستان کانفرنس کا انعقاد ہو گا جس سے نومنتخب چیئرمین سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما خطاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ کے شہید معصوم بچوں کے پاکیزہ خون نے عالم اسلام میں یکجہتی پیدا کی ہے،علامہ حسن ظفر نقوی

وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار پاکستان کا دفاعی حوالے سے حساس ترین علاقہ ہے، پارا چنار کے عوام وطن کے باوفا اور انتہائی باشعور اور تہذیب یافتہ شہری ہیں، تمام تر مشکلات اور سنگین صورتحال کے باوجود یہاں کے محب وطن شہریوں نے کبھی خلاف قانون اقدام نہیں کیا، آٹھ ماہ ہو چکے ہیں لیکن افسوسناک صورتحال ہے کہ راستے نہیں کھولے جا سکے، صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت تمام سیکورٹی کے ذمہ دار ادارے راستے کھلوانے میں مکمل ناکام ہیں، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، چیف جسٹس اور وزیر اعلی پارا چنار کے راستوں کی بندش بارے بے بس اور بے حسی کی کھلی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ پارا چنار کے مجبور لوگ اپنے گھروں سے دیگر شہروں کی طرف نہیں جا سکتے، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اور امن و امان کی ذمہ دار ایجنسیاں عوام کو تحفظ فراہم کریں، ایئر ایمبولینس سروس فوری بحال کی جائے اور ایئرپورٹ کو بھی تیزی سے فنگشنل کیا جائے، پینتیس سو شہریوں کی نوکریاں داؤ پر لگ چکی ہیں، فیول نہ ہونے کی وجہ سے سکولز بند ہیں اور فصلیں کاشت نہیں کی جا سکیں، جب بلوچستان میں ناامنی پر وفاقی حکومت اور سیکورٹی فورسز تیزی سے حرکت میں آتی ہیں تو پارا چنار کے شہری اس ملک کے باسی نہیں ہیں آخر اس ایشو پر سب ریاستی ذمہ داران کی زبانیں خاموش کیوں ہیں کیا یہ سب تضاد نہیں ہے۔

8:39 صبح مارچ 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔