اسلام آباد میں طاقت اور پسماندہ علاقوں میں بے بسی کیوں؟ : علامہ امین شہیدی
شیعیت نیوز: معروف عالم دین علامہ امین شہیدی نے ریاستی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاست چاہے تو اسلام آباد میں لاکھوں مظاہرین کو صرف 30 منٹ میں بزور طاقت منتشر کر سکتی ہے، لیکن پسماندہ علاقوں میں یہی ریاست بے بسی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
اپنے بیان میں علامہ شہیدی نے پارا چنار روڈ کی بندش، درجنوں خودکش دھماکوں، اور ایک ہی دن میں 100 افراد کے قتل جیسے سانحات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے باوجود ایک بھی ملزم گرفتار نہیں ہوا، اور یہ سوال اٹھایا کہ ریاست کی نیت میں یہ فتور کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار کے عوام سالہا سال سے ظلم و ستم کا شکار ہیں، علامہ سبطین سبزواری
علامہ شہیدی کے مطابق ریاست کی یہ دوہری پالیسی عوام میں اس کے کردار اور ترجیحات پر شکوک پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں طاقت استعمال کی جا سکتی ہے تو پارا چنار جیسے علاقوں میں بے بسی کیوں دکھائی جاتی ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ عوام کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے اور اس کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ علامہ شہیدی کے اس بیان نے ریاستی پالیسیوں پر ایک اہم سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ کیا سب شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک ممکن ہے، یا یہ محض ایک دعویٰ ہے؟







