اہم ترین خبریںپاکستان

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے قبل امریکہ کو تکلیف کیوں ہے؟خصوصی رپورٹ

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ایلیٹ طبقات نازک موڑ کا سہارا لے کر پاکستان کی عوام پر ایک بار پھر کوئی عذاب حکمرانی مسلط کرتے ہیں یا پھر قومی خود مختاری کے تحت آزادانہ پالیسی کا انتخاب کرتے ہیں۔

شیعیت نیوز: اسرائیل ایران تنازعہ پر پاکستان فریق تو نہیں بن سکتا البتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک ہنگامی ملاقات ہوئی ہے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ کے دفتر میں اُس وقت طویل ملاقات کی جب ایران کا اعلیٰ سطحی وفد بھی وزارت خارجہ کے دفتر میں موجود تھا۔

امریکی سفیر کو ہنگامی ملاقات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

دراصل سوموار کو صدر ایران ابراہیم رئیسی تین روزہ دورہ پر اسلام آباد آرہے ہیں۔

امریکا کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ غیر معمولی بات ہے کہ امریکا نے سرکاری سطح پر ایران اسرائیل تنازعہ پر سرکاری موقف پاکستان کے سامنے رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیطان امریکہ چاہتا ہے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات نہ بڑھیں:عبد اللہ گل

پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ کا بحال کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا نے پاکستان کے لیے بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ اس منصوبہ کو بحال کرتا ہے تو پھر پاپندیوں کے لیے تیار رہے اور اگر پاکستان یہ منصوبہ مکمل نہیں کرتا تو ایران پاکستان کو عالمی عدالت سے جرمانہ کراسکتا ہے کیونکہ ایران نے اپنی سائیڈ کی گیس پائپ لائن کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے۔

ایران کے صدر کا دورہ اسلام آباد اسی تناظر میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے لیکن امریکا کی جانب سے سفارتی سطح پر قبل از دورہ اسلام آباد میں متحرک ہو کر ملاقاتیں کرنا، یقیناً پاکستان کے حکام کو امریکی سرکاری پالیسی سے متنبہ کرنا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ایلیٹ طبقات نازک موڑ کا سہارا لے کر پاکستان کی عوام پر ایک بار پھر کوئی عذاب حکمرانی مسلط کرتے ہیں یا پھر قومی خود مختاری کے تحت آزادانہ پالیسی کا انتخاب کرتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی سرکاری پالیسی کے تحت تو نشریات میں شرکت کرنے والے ماہرین وغیرہ کو ہدایات ہیں کہ وہ فلسیطن کی حمایت تو کر سکتے ہیں لیکن اسرائیل کی مخالفت میں کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔

اس کا تحلیل و تجزیہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ پارلیمان میں فلسطین کے حق میں بیان دیے گئے ہیں اور اسرائیل کے خلاف کوئی پالیسی بیان نہیں دیا گیا۔

یہ دورہ، بہت غیر معمولی ہے اور پاکستان کی آئندہ خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کرنے میں معاون ہوگا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button