کالعدم سپاہ صحابہ /لشکرجھنگوی میں داخلی اختلاف قتل وغارت تک پہنچ گئے، مسعودعثمانی اسلام آباد میں قتل
شیعیت نیوز: کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سنی علماء کونسل پاکستان علامہ مسعودالرحمن عثمانی غوری ٹاؤن اسلام آباد میں اپنے ہی لوگوں کی فائرنگ سے ہلاک۔ مولانا مسعود الرحمن عثمانی جنہوں نے معاویہ اعظم کو سمجھانا چاہا اور مولانا لدھیانوی کی بات ماننے کو کہا مگر افسوس کہ معاویہ اعظم نے مولانا سے بدتمیزی کی اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔مولانا مسعود عثمانی نے کل معاویہ اعظم کو فون کرکے بابا جی کےحق میں دستبردار ہونے کا بولا تھا۔
تفصیلات کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ میں پھوٹ پڑنے اور سیاسی انتشار کا پہلا نتیجہ، اپنے ہی لوگوں کی فائرنگ سے مولانا مسعود الرحمن عثمانی غوری ٹاؤن میں فائرنگ سے ہلاک۔ گزشتہ کچھ دنوں سے اہلسنت و الجماعت میں سیاسی دھڑا بازی اور مولانا احمد لدھیانوی اور مولانا معاویہ اعظم کے درمیان شدید کشیدگی ہوئی جس میں مولانا احمد لدھیانوی نے مولانا معاویہ اعظم کو نا صرف ناہل کروایا بلکہ اپنے وکلاء کے ذریعے مولانا کے خلاف درخواستیں بھی دیں تاکہ وہ الیکشن میں حصہ نہ لے بلکہ ان تمام سیٹوں سے مولانا احمد لدھیانوی نے الیکشن کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

اس سارے معاملات میں مولانا مسعود عثمانی اور اس کی میڈیا ٹیم نے بھی شدید انداز اختیار کیا اور ہر دوسرے فریق پر کیچڑ اچھالا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مولانا احمد لدھیانوی کے خلاف بھی محاذ آرائی کی گئی کہ جماعت اسے ووٹ نہیں دے گی اور اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی کیونکہ ان حلقوں سے ہمیشہ مولانا معاویہ اعظم ہی کامیاب ہوئے اور عوام میں مقبول بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرمان کی فضا انتقام، امریکا مردہ باد اسرائیل مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی
سپاہ صحابہ کے زرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عثمانی کی طرف سے مسلسل بیانات اور میڈیا ٹیم کے ذریعے لوگوں کو اکسانے کے سبب کافی الجھن پائی جارہی تھی۔ یہاں تک بھی کہا گیا کہ مولانا لدھیانوی نے پہلے ملک اسحاق کو شہید کروایا اور اب معاویہ اعظم کو بھی شہید کروائے گا اور سیاست کرے گا۔ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مولانا مسعود الرحمن عثمانی کی جانبدارانہ رویے کے سبب آج ساتھی ان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا مولانا لدھیانوی مولانا معاویہ اعظم کے لئے کیا لائحہ عمل سامنے لاتے ہیں۔
دوسری جانب کالعدم سپاہ صحابہ کے شرپسند عناصر نے اس ذاتی و داخلی نوعیت کے قتل کی واردات کو فرقہ وارانہ رنگ شروع کردیا ہے، اسلام آباد میں اسپتال کے باہرپولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں شرانگیز تقاریر کی گئیں، کافر کافر شیعہ کافر کے سر عام نعرے لگائے گئے ، جبکہ خود سپاہ صحابہ کے مقامی قائدین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ مسعود الرحمٰن عثمانی کا قتل کسی شیعہ نے نہیں کیا بلکہ یہ قتل کسی قریبی تنظیمی دہشت گرد کی ہی کارروائی ہے ۔







