شیعہ نسل کشی میں ملوث دہشت گردوں کے کاغذات منظور، الیکشن کمیشن کی ناکامی
شیعیت نیوز:الیکشن کی آمد آمد ہے محب وطن پاکستانیوں کے کاغزات مسترد کئے جارہے ہیں۔
شیعہ نسل کشی میں ملوث کالعدم جماعت کے دہشت گردوں اور حساس اداروں کی عمارتوں پر حملہ کرنے والے تکفیریوں کے کاغز منظور کئے جارہے ہیں۔
یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی اور جانبدارنہ رویہ ہے جوکہ آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
الیکشن سے قبل ہی تکفیری شکست خوردہ ہوچکے ہیں۔
حالیہ انتخابات سے پہلے احمد لدھیانوی اور،معاویہ اعظم اور مسرور جھنگوی میں سیاسی اختلافات اس قدر زیادہ ہوگئے ہیں کہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی کسی بھی وقت مسلح تصادم کا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔
تاہم دہشت گردوں کو قومی دھارے میں لانے کی بھرپور کوشش کی جاری ہے۔صرف احمد لدھیانوی، معاویہ اعظم طارق اور مسرور نواز جھنگوی ہی نہیں۔
بلکہ 8 فروری کے آنے والے ان انتخابات کے لئے ہزارہ برادری کے سینکڑوں مظلومین کے قاتل اور بے شمار بم دھماکوں میں ملوث داعش کا امیر رمضان مینگل نے بھی سے انتخابات لڑنے کے لئے کاغذات داخل کرادئیے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے سپاہ صحابہ کے 3 امیدواروں حافظ مظہر جاوید ایڈووکیٹ اور NA-46 سے، جمیل اختر نے NA-47
یہ بھی پڑھیں:ریاست کی منافقت!محب وطن شہریوں پر پابندی جبکہ شیڈول فور میں شامل تکفیری دہشت گردالیکشن لڑنے کیلئے آزاد
وقاص ستی نے نون لیگ سے لشکر جھنگوی کا تربیت یافتہ عابد رضا کوٹلہ پچھلے 4 الیکشن گجرات سے قومی اسمبلی کی نشست پر جیت چکا ہے
چکوال سے حافظ عمار یاسر ق لیگ کے ٹکٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا تھا
جس نے تحفظ ناموس صحابہ بل اور نصاب والے قانون کی پنجاب اسمبلی سے منظوری کروائی تھی۔
ملت تشیع پاکستان قاتلوں اور دہشت گردوں سے محتاط رہنا ہو گا۔
اور یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے لئے کامیاب نہ ہو سکے۔
کیونکہ ان دہشت گردوں کو پارلیمنٹ سے دور رکھ کر ان کی سرکوبی کے لئے قوانین بنوائے جانے بہت ضروری ہیں۔







