امت واحدہ پاکستان کی قومی فلسطین کانفرنس: منشاقاضی کی تحریر

01 نومبر, 2023 13:25

اس وقت عالم اسلام پر نہیں اس کے ماننے والوں پر کڑا وقت اور جبر کا موسم آیا ہوا ہے ۔

بڑی طاقتیں اپنی انا کی سولی پر الٹی لٹکی ہوئی ہیں انہیں مظلوم اور ظالم میں تمیز کرنے کی بجائے ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم ظاھر کر رہا ہے ۔

جو چاھے تیر حسن کرشمہ ساز کرے۔

ظالم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ مظلوم کی عارضی و فانی دنیا بگاڑ رہا ہے اور اپنی ابدی دنیا بگاڑ رہا ھے ۔

گزشتہ دنوں امت واحدہ پاکستان لاھور کے زیر اہتمام قومی فلسطین کانفرنس میں تمام مسالک و مذاھب کے قائدین نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اسرائیلی غنڈوں کی شدید مزمت کی

اور اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے حکمرانوں کو عوامی جذبات و احساسات کی نزاکت سے آگاہ کیا ۔

سربراہ امت واحدہ علامہ محمد امین شہیدی نے دو ٹوک الفاظ میں فرعونی قوتوں کو باور کرایا کہ تم مظلوم فلسطینوں کے ساتھ ظلم کر رہے جس کا آپ کو حساب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دینا ہو گا ۔

امریکہ مارنے والوں کو مظلوم اور مرنے والوں کو ظالم کہہ رہا ہے اور مغرب کا برقی ذرائع ابلاغ ظالموں کی حمایت میں دن رات مسلم امہ کے خلاف ذریلہ پروپگنڈا کر رہا ہے

پیر غلام رسول اویسی ،ڈاکٹر طارق شریف زادہ ،مسیحی رھنما خالد گل نے حماس کی حمایت میں کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہمارے پاس عصائے موسیٰ موجود ہے اور ہم رسیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہیں ۔

ڈاکٹر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری کی نقابت میں اخوت اور خطابت میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہہ رہے تھے ۔

میں نے شاہ صاحب کی مثبت سوچ کے بطن سے اتحاد امت کی پکار سنی اور ان کو امت کا ایک ہمدرد اور درد مند عظیم انسان پایا ۔

انہوں جتنے مقررین کو اظہار خیال کی دعوت دی ان کا روئے سخن بڑا دلسوز تھا ۔

وہ پاکیزہ خیالات کے اظہار کے لیئے مہمان مقررین کو دعوت دیتے تھے ۔ پاکیزہ خیالات فلک الفلاک سے آتے ہیں زمین کی پاتال سے پیدا نہیں ہوتے ۔

قومی فلسطین کانفرنس کے انعقاد کے انتظامات میں شہزادہ علی ذوالقرنین  سید انجم رضا اور سید اسامہ بخاری کا منصوبہ ساز ذہن کارفرما تھا ۔

پیر غلام رسول اویسی کی اداسی دیکھی نہیں جا سکتی تھی ۔ وہ اتحاد امت کے لیئے علماء اکرام کی آمد پر اپنی پلکیں نچھاور کیئے ہوئے تھے ۔

مسیحی راھنما جناب خالد گل نے زور دار دلیل کے ساتھ ثابت کیا کہ مسیحی مسلم بھائی بھائی ہیں اور اس وقت دونوں مزاہب کی عبادت گاہیں، شفا خانے اور تعلیمی ادارے اسرائیلی غنڈوں کی بمباری سے محفوظ نہیں رہے ۔

دودھ پیتے بچوں کو بھی ماں کی آغوش سے چھین کر موت کی آغوش میں ابدی نیند سلا دیا ۔

دست گلچیں کا تشدد دیکھو
پھول نے جرم کیا ہو جیسے

ان حالات میں امریکہ کی نگاہ میں اسرائیل مظلوم ہے اور فلسطینی عوام ظالم ہے ۔

امت واحدہ پاکستان لاھور کے عہدیداران  خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔

میں نے  کانفرنس میں پہلی مرتبہ تمام مسالک و مذاھب کے رھنماؤں کے سینوں میں دھڑکنے والے دلوں کی صدا یکساں سنی ہے ۔

اور یہ نغمہ جس ساز پر سوز و گداز سے بلند کیا گیا ہے اس کی صدائے باز گشت گنمبد بے در سے آ رہی ہے ۔ تمام علما کی زبان پر ایک ہی التجا تھی ۔

پھر ہم پہ مصیبت کی گھٹا چھائی ہوئی ہے
پھر آپ کی امت کا ہے طوفاں میں سفینہ

سید نو بہار شاہ ، علامہ سید عاشق حسین ، سیرت نگار دانشور ڈاکٹر طارق شریف زادہ نے بھی یہودی تشدد اور ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کے عقب میں امریکی قوتوں کی پرزور مذمت کی ۔

آج اکیسویں صدی میں جب ایک بچہ بھی ظالم اور مظلوم میں تمیز کر سکتا ہے ۔ یہودیوں کی بربریت کو امریکہ مدافعت کا لباس کیوں پہنا رہا ہے اسے نظر نہیں آ رہا کہ فلسطین کی سر زمین رنگین اور لہو سے اٹی پڑی ہے ۔
نبیوں کی زمیں پھر منتظر اذاں ہے

پہنچے کوئی اسلام کا لشکر میرے آقا

علامہ امن شہیدی نے فرمایا ! آج پاکستان کی طرف سے یہ پیغام دنیا بھر میں جا رہا ہے کہ فلسطینی مظلوم عوام کے ساتھ ہے۔

اگر ان کے لئے جان و مال کی قربانی دینے کی ضرورت پڑی تو ہم حاضر ہیں۔

اس اجتماع نے فرقہ واریت کے تابوت میں کیل ٹھونک کر دنیا کو پیغام دے دیا کہ تم ہمیں جتنا تقسیم کرنا چاہو، بیت المقدس اور فلسطین ہمیں آپس میں جوڑتا ہے۔

حماس تمام مسلمانوں کے قلوب کی مشترکہ آواز اور دھڑکنوں کا نام ہے۔

مرنے والے ظالم اور مارنے والے امریکہ بہادر کی نظر میں مظلوم ہیں ۔۔ واہ کیا بات ہے ۔

ان کی زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
یہ تیرگی جو میرے نامہ ء سیاہ میں ہے

7:00 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top