اسرائیلی میڈیا نے طوفان الاقصیٰ کو ہولوکاسٹ کے بعد بڑا حملہ قرار دے دیا
شیعت نیوز اسرائیل پرحماس حملے نے مغربی میڈیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔
غیر ملکی اخبارات اور جریدوں نے تجزیئے اور تبصرے کئے ہیں کہ اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ناکامی ہے ،حملے نے اسرائیل کے ساتھ بیرونی مبصرین کو بھی حیران کر دیا،
یہ اسرائیل کا نائن الیون ہے۔ اس کے نتائج خطرناک اور غیر متوقع ہوں گے،
اسرائیل اور حماس کی کوئی بھی طویل جنگ یوکرین کے لیے درکار مزید امریکی فوجی سازوسامان کو تل ابیب کی طرف موڑ سکتی ہے،
نیتن یاہو کی اسرائیلی سپریم کورٹ کے اختیار چھیننے کی خواہش نے اسرائیلی معاشرے اور اس کی فوج کو توڑ دیا،
حملے نے اسرائیلیوں کے اپنی انٹیلی جنس سروسز پر اعتماد کو متزلزل کر دیا، حملہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی اور سیاسی منظر نامے کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دے گا،
پورے خطے میں سیکورٹی اثرات مرتب ہوں گے،امکان ہےیروشلم اور تہران کے درمیان جاری شیڈو وار میں شدت آئے،
حیران کن بات یہ ہے کہ اس سال کے اوائل میں بھی سعودی عرب اور حماس کے درمیان پیچیدہ اور کشیدہ تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی ،
یہ قابل فہم لگتا ہے کہ روس نے حماس کو مشرق وسطیٰ میں افراتفری کو فروغ دینے سے انکار نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل پرحماس حملے نے مغربی میڈیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے،
تجزیہ نگار اور مبصرین اسے اسرائیل کے لیے بدترین دن قرار دے رہے،کوئی اسے اسرائیل کا نائن الیون اور کوئی انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دے رہا ہے،
ایک طرف سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ہوتی مفاہمت میں رکاوٹ تو کوئی اسے یوکرائن جنگ توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔
امریکی اخبار’لاس اینجلس ٹائمز‘ لکھتا ہےاسرائیل کے خلاف حملہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی اور سیاسی منظر نامے کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دے گا
اور واشنگٹن کو اسرائیل پر اثر انداز ہونے کے لیے جو بھی فائدہ حاصل ہے اس سے محروم کر دے گا







