برطانیہ میں اسلاموفوبیا ، مسلمانوں کی قبریں بھی محفوظ نہیں

07 مارچ, 2023 09:26

شیعیت نیوز: یورپی ممالک منجملہ برطانیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین امتیازی سلوک کی وجہ سے حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے سخت منفی نتائج مختلف شکلوں میں برآمد ہو رہے ہیں۔

الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کی قبروں پر حملے اور انہیں نقصان پہنچانے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور کچھ لوگوں نے اسے اسلاموفوبیا کی وجہ قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔

الجزیرہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس نے ایک ہفتہ قبل اسکاٹ ورتھ شہر میں مسلمانوں کی قبرستان پر حملہ کرنے والے نامعلوم افراد سے نمٹنے کے لیے مدد مانگی۔

لنکاسٹر پولیس نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں اور جس کسی کو بھی اس واقعہ یا اس کو انجام دینے والوں کے بارے میں معلومات ہو وہ جلد از جلد ہم سے رابطہ کرے۔

بیان کے ساتھ لنکاسٹر پولیس نے قبرستان کی تصاویر بھی جاری کیں، جہاں دو قبروں کے پتھروں پر ’اسٹار آف ڈیوڈ‘ کا نشان پینٹ کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک قبر ایک مسلمان خاتون کی ہے جس کا انتقال ستمبر 2020 میں ہوا تھا۔

برطانیہ کے مسلمان شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ مغربی دنیا بالخصوص برطانیہ میں بے لگام ہو رہے اسلاموفوبیا کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی سفیر کی ترک وزارت خارجہ میں طلبی،دورہ شمال مشرقی شام سے متعلق وضاحت طلب

دوسری جانب انڈونیشیا کے جزیروں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سڑکیں زیر آب ہیں اور معمولات زندگی معطل ہیں۔ بارش کے دوران مٹی کا بڑا تودہ مکانوں پر گر گیا۔5 سے زائد مکانات منوں مٹی کے تودے تلے دب گئے۔

ملبے سے 11 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ اب بھی ملبے میں 50 سے زائد افراد کے دبے ہونے کا انکشاف ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیم کے انچارج کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے جزیروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم امدادی کاموں کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

جزیروں پر مشتمل ملک انڈونیشیا کو موسمیاتی تغیرات کے باعث غیر متوقع بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔ ضلع بنجر میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 1700 تباہ ہوگئے تھے اور ایک ماہ تک معمولات زندگی بحال نہیں ہوسکے تھے۔

5:01 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top