صیہونی حکومت کے سربراہ کا دورہ بحرین اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہے، شیخ عبداللہ صالح

05 دسمبر, 2022 06:25

شیعیت نیوز: بحرین کی اسلامی تحریک العمل الاسلامی کے رہنما شیخ عبداللہ صالح سے خصوصی گفتگو کی۔ شیخ عبداللہ صالح کا کہنا تھا کہ غاصب صہیونی حکومت کے سربراہ کا دورہ بحرین اسلام اور مقاومت کے محور کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

شیخ عبداللہ صالح نے اس سلسلے میں زور دے کر کہا کہ غاصب صہیونی حکومت کے اعلی حکام نے حالیہ مہینوں میں مسلسل بحرین اور متحدہ عرب امارات کے دورے کیے ہیں۔ اسی طرح صہیونی رہنماؤں نے خلیج فارس کے علاقے کے دوسرے ملکوں کے دورے بھی کیے ہیں جنہیں منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان مسلسل دوروں اور یکساں طرز کے اقدامات کے پس پردہ دین اسلام کے خلاف عالمی جنگ جیسے بڑے منصوبوں اور واقعات کے عزائم کار فرما ہیں لہذا یہ بات درست نہیں کہ ان دوروں کا مقصد صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔

بحرینی رہنما شیخ عبداللہ صالح کا مزید کہنا تھا کہ البتہ یہ بات صحیح ہے کہ غاصب صہیونی اپنے فلسطین میں باقی رہنے اور اپنے جعلی وجود کو دوام بخشنے کے حوالے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں تاہم اصل مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے، یہ لوگ ان دوروں کے ذریعے اسلام کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز کے لئے خطے کی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی صدر کا دورہ بحرین فلسطینی قوم کے قلب میں خنجر کی مانند ہے، جہاد اسلامی

اس سلسلے میں انہوں نے بے تحاشا سازشیں انجام دی ہیں جیسے کہ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنا، ہم جنس پرستی کو فروغ دینا، معاشروں میں فساد اور بے راہروی پھیلانا اور خطے میں بعض امریکی سفارت خانوں میں نوجوانوں کے لیے طے شدہ اہداف کے تحت ٹارگٹڈ ٹریننگ کورسز کا انعقاد کرنا بھی انہی سازشوں کا حصہ ہیں۔

العمل الاسلامی تحریک کے رہنما شیخ صالح نے زور دے کر کہا کہ آج کی عالمی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے۔ ان جنگوں میں کلاسیکی فوجوں کے درمیان فوجی تصادم اہم نہیں ہوتا لیکن دوسری طرف اصل ہدف خطے کے ممالک کو تباہ کرنا اور باشعور اور آگاہ شخصیات اور باصلاحیت افراد کو ختم کرنا ہے جن میں اسلامی بیداری کے ہیروز بھی شامل ہیں اور ہم دیکھ رہے کہ وقتاً فوقتاً اسلامی بیداری کے علمبرداروں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ان تمام اقدامات کا مقصد ان ملک پر تلسط قائم کر کے اپنے کنٹرول لینا ہے۔

شیخ عبداللہ صالح نے مزید کہا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ صہیونی لیڈروں کے بحرین کے دوروں کا مقصد بحرین میں دین اسلام کو تباہ کرنا اور اس ملک میں شیعوں کی بیخ کنی کرنا ہے تاکہ درنہایت بحرین میں مزاحمت، مقاومت، خودمختاری اور آزادی کے جذبے کی بنیادوں کو خشک کرسکیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ یہاں زمین خرید رہے ہیں اور منامہ کے ایک علاقے میں ایک "یہودی محلہ” بنا چکے ہیں، اسی طرح یہ لوگ صہیونی مقاصد کے تحت جزیرہ نما تاروت جیسے علاقوں میں بھی زمین خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درحقیقت انہوں نے میدان میں حقیقی جنگ شروع کر دی ہے۔ اسی بنیاد پر ہم صہیونی رہنماؤں کے دوروں کو دین اسلام، مقاومت کے محور اور تمام باعزت اور حریت پسندوں کے خلاف اعلان جنگ سمجھتے ہیں جو اپنے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

9:34 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔