کیا ایٹمی جنگ قریب ہے؟ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا اہم بیان
شیعیت نیوز: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغرب نے یہ آس لگا رکھی تھی کہ یورپ اور دنیا میں روس اپنی پرانی پوزیشن دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گا۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ نیٹو نے اپنے ارکان بڑھانے اور اپنے تسلط کا دائرہ بڑھانے کے تناظر میں سیکورٹی اور تعاون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ امریکا کوشش کر رہا ہے کہ اسے تسلط حاصل ہو جائے اور نیٹو کی تمنا ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ میں اس کے قدم جم جائیں۔
وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا اشارہ یوکرین جنگ کی طرف تھا جو کئی مہینے سے جاری ہے اور جنگ کے جاری رہنے کی وجہ سے علاقے ہی نہیں عالمی سطح پر ممالک کو اقتصادی دباؤ اور انرجی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے موجودہ وقت میں ایٹمی جنگ کے خطرے کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ ہوئی تو اس جنگ کا کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا اس لئے یہ جنگ شروع ہونے کے ہر امکان کو روک دینا چاہئے۔
لاوروف نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ روس، یورپ سے باہر رہے کیونکہ امریکہ نے یورپ کو اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے اور وہ کسی بھی طرح کا چیلنج نہیں چاہتا۔
یہ بھی پڑھیں : غاصب صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، ناصر کنعانی
دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جمہوریہ دونتسک کے علاقے اوریخوواتکا میں امریکہ کے ھیمارس میزائل اور اسی طرح ریڈار AN / TPQ-37 کو تباہ کردیا گیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے اپنی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فورسز نے گزشتہ روز حملہ کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا اور اس آپریسن میں یوکرین کے فوجیوں کا بڑا نقصان ہوا۔
اس رپورٹ کے مطابق کوبیانسک ، کراسنی لیمان اور دونستک میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران یوکرین کے 90 فوجی ہلاک اور اس کے 7 ٹینک تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ دونستک اور زابوروژیا میں بھی یوکرین کے میزائلوں کے تین گوداموں اور ہتھیاروں اور تین ڈرون کو تباہ کر دیا گیا۔







