یوکرین میں جنگی اخراجات یورپی شہریوں پر بھاری ہیں، نیٹو کے سیکریٹری جنرل
شیعیت نیوز: نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ یوکرین کے لیے مغربی مالی اور فوجی مدد، یورپی شہریوں کے لیے مہنگی پڑی ہے، خبردار کیا کہ اس براعظم کے عوام کو ایک مشکل وقت کا سامنا ہے۔
ارنا رپورٹ کے مطابق ینس استولنبرگ اتوار کے روز کو جرمن اخبار "ولت آم زونتاگ” سے ایک انٹرویو میں کہا کہ خوراک اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مطلب یورپی خاندانوں کے لیے مشکل وقت ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ اگر ہم یوکرین کو ہتھیار دیں تو مغرب مذاکرات کی میز پر اس ملک کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، استولنبرگ نے دعویٰ کیا کہ روس یوکرین کے خلاف ’’موسم سرما کو بطور ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : انگلینڈ کی فائربریگیڈ سروس میں نسلی اور جنسی امتیاز عروج پر
دوسری جانب روس نے خارکیف میں تین سو غیر یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشنکوف نے اعلان کیا ہے کہ خارکیف میں تین سو غیر یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو سو سے زائد پولیش فوجی اہلکار شامل ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مختلف جھڑپوں میں ایک سواسّی سے زائد یوکرینی فوجی بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر کوبیانسک کے علاقے میں روسی فوج نے یوکرینی فوج کا حملہ ناکام بنا دیا جبکہ اس علاقے میں تیس سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ۔ کراسنی لیمان میں بھی یوکرینی فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سے جمہوریہ لوہانسک میں روسی فوجی دستے پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اس علاقے میں یوکرینی فوج پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ۔ اس علاقے میں چالیس سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دونتسک میں بھی روسی فوج نے یوکرینی فوج کے حملے کا مقابلہ کیا جہاں ستر کے قریب یوکرینی فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دونتسک کے جنوبی علاقے میں بھی تقریبا چالس یوکرینی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
روس کی وزارت دفاع نے مغربی جنگی علاقوں سے متعدد میزائل فائر کئے جانے کی تصاویر بھی نشر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روسی فوج، دشمن کی فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یوکرین کی جنگ وسیع سیاسی، اقتصادی، فوجی اور سماجی منفی نتائج کے ساتھ گذشتہ نو ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ نے روس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھا کر اور یوکرین کی مالی و اسلحہ جاتی مدد اور حمایت کر کے نہ صرف جنگ کے خاتمے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے بلکہ وہ یوکرین کی جنگ کو طول دینے بھی کوشش کر رہا ہے۔







