شام اور ترکی کی خفیہ ایجنسیاں باہم رابطے میں ہیں، مولود چاووش اوغلو
شیعیت نیوز: جہاں ترکی اور شام کے مابین تعلقات کی بحالی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، وہیں ترکی کے وزیر خارجہ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں آپس میں رابطے میں ہیں۔
ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے شام کے ساتھ تعلقات اور رجب طیب اردگان اور بشار الاسد کے درمیان ملاقات کے امکان پر بھی اظہار خیال کیا۔
چاووش اوغلو نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی خفیہ ایجنسیاں اور اس کے شامی ہم منصب کے درمیان رابطے کا چینل موجود ہے۔
انقرہ کے اس سینیئر سفارت کار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردگان اور شامی صدر بشار الاسد کے درمیان ملاقات کے امکان کے بارے میں ’’افواہوں‘‘ کو یکسر مسترد کر دیا۔ طے یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 15 اور 16 ستمبر کو ازبکستان کی میزبانی میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی جنگ پسندی جاری، یوکرین کے لئے سب سے بڑا فوجی پیکج
شام میں ترکی کی فوج کی قابض کی حیثیت سے موجودگی اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے بعد ترک وزیر خارجہ شام کی قانونی حکومت اور اس کے داخلی معاملات کے لئے نسخہ تجویز کر رہے ہیں۔
چاووش اوغلو نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں دیرپا امن کی خاطر اقدامات کئے جانے چاہئیں اور اسد حکومت کو اپنے مخالفین کو دہشت گرد قرار نہیں دینا چاہیئے۔ انہوں نے دمشق سے غیر مشروط روابط کی بحالی کا عندیہ دیا۔
ترک وزیر خارجہ کے بیانات ایسے وقت پر سامنے آرہے ہیں، جب انہوں نے کچھ عرصہ قبل ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ مختصر ملاقات کا دعویٰ کیا تھا۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں بعض ترک حکام کے دمشق کے ممکنہ دورے کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ترکی کی وطن پارٹی کے رہنماء دوغو پرینچک بھی اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ دمشق کے دورے میں ترکی کے سیاستدان اور اہم شخصیات بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔ ترک وطن پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ آئندہ ایک یا دو ہفتوں میں وہ دمشق کا دورہ کریں گے اور شامی صدر سے ملاقات کریں گے۔







