دہشت گردی کے شہداء کے اہل خانہ نے یورپ سے منافقین کی حمایت نہ کرنے کا مطالبہ کیا
شیعیت نیوز: ایرانی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ منافقین نے 17 ہزار ایرانی ہم وطنوں کو قتل کیا ہے اور ایرانی شہداء کے اہل خانہ کا مطالبہ یہ ہے کہ یورپی ممالک منافقین کے گروہ کی حمایت نہ کریں۔
یہ بات زہرہ الہیان نے پیر کے روز دہشتگردی کے شہداء کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب جو ایران میں اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر کی سربراہ محترمہ خاتون انگل ماری کی موجودگی سے منعقد ہوئی ، سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
الہیان نے کہا کہ انسانی حقوق کی کمیٹی میں ہماری پہلی نشست کا مقصد دہشت گردی کے شہداء کے خاندانوں کی مدد کرنا، ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانا تھا اور اس تناظر میں ہم نے ملک کےاندر ذمہ دار حکام اور انسانی حقوق کے حکام، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یورپی یونین سے کئی مراسلے بھیجے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے یقین ہے کہ پارلیمنٹیں دہشتگردی کے شہدا کے پسماندگان کی حمایت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی حقوق اور دہشت گردی کے متاثرین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے ممالک دہشت گرد گروہوں کے اہم ترین حامی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مزاحمت ہمارا اسٹریٹجک انتخاب ہے، حماس اور اسلامی جہاد تحریکیں
دوسری جانب ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کی کھڑی کردہ رکاوٹوں کے باوجود ایران جدیدترین ایٹمی ٹیکنالوجیوں کے میدان میں داخل ہوگیا ہے۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے محکمۂ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتوں نے اس خوف سے ایران کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجیوں تک رسائی ایران کو طاقت کے ہرم میں پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے ایٹمی صنعت کے بیس سالہ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آئندہ بیس سال کے دوران ایٹمی بجلی گھروں کے لیے کم سے کم تیس ہزار ماہرین کی تربیت کا ہدف مقرر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایرانی ماہرین نے بڑی طاقتوں کی تمام تر بندشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایٹمی صنعتوں کے میدان میں جدید ترین ٹیکنالوجیوں تک رسائی حاصل کرلی ہے۔
ایران اس وقت طب، زراعت اور مختلف صنعتی شعبوں میں ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے۔







