یورپی ممالک نے ایران کے خلاف پابندیوں کی منسوخی پر کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، کاظم آبادی
شیعیت نیوز: ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے ایران کے خلاف پابندیوں کی منسوخی پر یورپی ممالک کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پچھلے سالوں کے دوران، اس حوالے سے چھوٹا سا قدم بھی نہیں اٹھایا ہے۔
ارنا رپورٹ کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ہمارے ملک میں 25 ہزار افراد دہشت گردی کا شکار ہوگئے ہیں اور ایسی صورتحال میں امریکہ نے ایران کے خلاف سب سے زیادہ ظالمانہ پابندیاں عائد کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر النا دوہان نے اپنے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر ایک طویل رپورٹ پیش کی تھی جس میں ایک اہم جملہ ہے جنہوں نے اپنی رپورٹ سمیت پریس کانفرنس میں بھی اس کا ذکر کیا اور وہ یہ ہے کہ ’’پابندیوں نے ایران میں تمام انسانی حقوق کے پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں : حسین عبداللہیان نے فلسطینی ارمان کی حمایت پر ایران کی پالیسی کے تسلسل پر زور دیا
ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کہا کہ شہید جنرل سلیمانی کے قتل کیس سے متعلق ایران اور عراق کے عدالتی نظاموں کے درمیان اچھا تعاون ہوا ہے اور تہران کے پراسیکیوٹر آفس کے بین الاقوامی امور کا دفتر فرد جرم تحریر کرنے کے آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی فرد جرم عدالت کو بھیج دی جائے گی۔
کاظم غریب آبادی نے سوئڈن میں قید ایرانی شہری حمید نوری کے کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس، مکمل طور پر سیاسی ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حمید نوری، گزشتہ تین سالوں سے اب تک قید تنہائی میں ہیں اور اسی صورتحال میں ان کے خلاف فیصلہ سنایا گیا ہے اور کئی چند دنوں میں اس فیصلے سے متعلق نظر ثانی ڈالنے کے وقت کا اختتام ہوگا اور یہ ایسا وقت ہے جب ابھی تک حمید نوری کو قابل فہم فیصلے کی فراہمی نہیں کی گئی ہے۔
ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے اس حوالے سے سوئڈش حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے قانونی، سیاسی، عدالتی اور سفارت کاری کی تمام سطح میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔







