افغانستان کے صوبے تخار میں دھماکہ، چھے افراد ہلاک
شیعیت نیوز: افغانستان کے صوبے تخار میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں کم از کم چھے افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف ایرانی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام خطے کے فائدے میں ہے۔
افغانستان کی شفقنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ صوبے تخار میں بہارک کے علاقے چایلہ میں ہوا جس میں طالبان گروہ کا ایک سینیئر کمانڈر زخمی بھی ہوا ہے۔
ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری انتظامیہ کی کوششوں کے برخلاف یہ انتظامیہ اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
افغانستان کے مختلف علاقوں منجملہ مساجد و مقدس مقامات میں دہشت گردانہ بم دھماکے اور حملے ہوئے ہیں جن میں سیکڑوں کی تعداد میں عام شہری اور نمازی شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ اور ان سب حملوں اور دھماکوں کی ذمہ داری داعش دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطینی اتھارٹی امریکہ کے دھوکے پر مبنی وعدوں کے چکر سے نکل آئے، فلسطینی یونین
دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی نگراں حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایران کے سفیر سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماوں نے دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارتی تعلقات کےفروغ پر زور دیا۔
ایران کے سفیر بہادر امینیان نے افغانستان میں امن اور استحکام کو خطے کے فائدے میں قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپنے ہمسائے ملک سے تعلقات اچھے رہیں اور افغانستان سے مشترکہ سرحدوں کی بدولت اس سے مثبت اور دوطرفہ استفادہ کیا جائے۔
خبر رساں ادارے آوا کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی نگراں حکومت کے ڈپٹی ترجمان حفیظ ضیا احمد نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں امیر خان متقی اور ایرانی سفیر بہادر امینیان کی کابل میں ملاقات کی خبری دی۔
ملاقات میں ایران میں مقیم افغانی مہاجرین اور قیدیوں کے مسئلے کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ، سرحدی معاملات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات پر بات چیت ہوئی۔
امیر خان متقی نے ایران کے ساتھ در طرفہ روابط کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان اس کوشش میں ہے کہ خطے میں ایک ٹرانزٹ پوائنٹ میں تبدیل ہوجائے اور اس سلسلے میں ایران اور تاجکستان کے مابین تجارتی اجناس کی منتقلی میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
طالبان کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ترجمان نے مزید لکھا کہ اس ملاقات میں سرحدی معاملات کا جائزہ لینے کے لئے دو طرفہ نشستوں کے انعقاد پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔







