ناجائز یہودی آباد کاروں نے گندم کی تیار فصل نذر آتش کردی
شیعیت نیوز: ناجائز یہودی آباد کاروں نے مقامی قصبے میں فلسطینیوں کی گندم کی تیار فصل کو آگ لگا کر جلا دیا ہے، فلسطینیوں کی گندم کو جلانے کا یہ واقعہ نابلوس شہر کے جنوب میں واقع قسرا نامی قصبے میں پیش آیا ہے۔
یہودی بستیوں کے انچارج غسان دغلس نے بھی اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم دعویٰ کیا ہے کہ فائر بریگیڈ نے مقامی فلسطنیوں کے ساتھ مل کر اب آگ پر قابو پالیا ہے۔
واضح رہے فلسطینیوں کی فصلوں اور باغات کو ناجائز یہودی آباد کاروں کی طرف سے اجاڑنے اور آگ لگا دینے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس طرح کے واقعات اسرائیلیوں کا معمول کا حربہ ہیں تاکہ مقامی فلسطینی تنگ آ کر علاقہ خالی کر دیں۔ یہاں نابلوس کے علاقے میں ایسی کارروائیاں بطور خاص اہم ہیں کہ اسرائیل مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خودمختاری تحریک کا مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کا انکشاف
دوسری جانب اسرائیلی گولیوں اور بارود کا پتھروں سے مقابلہ کرنے والے فلسطینیوں کی سزا دوگنا کرنے کی اسرائیلی تیاری شروع کر دی گئی ۔ اسرائیلی وزارتی کمیٹی اتوار کے روز اس بارے میں ترمیمی مسودہ قانون کا جائزہ لے گی۔
ایک اسرائیلی اخبار نے خبر دی ہے کہ لیکوڈ پارٹی نے اس تجویزپر مبنی مسودہ تیار کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فورسز اور فلسطینیوں کی جگہوں پر ناجائز طور پر آباد کیے گئے یہودیوں کے خلاف پتھر پھینکنے والے فلسطینیوں کی سزائے قید جو اس وقت زیادہ سے دو سال ہے اسے بڑھا کر چار سال قید کر دیا جائے۔ اس بارے میں ایک مسودہ قانون تیار کر لیا گیا ہے جسے اتوار کے رواز اسرائیلی کابینہ کی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔
تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں عملا اکثریت کھو چکی اسرائیلی مخلوط حکومت کے لیے اس قانون کو منظور کرانا ایک اور چیلنج بن سکتا ہے کہ مخلوط اسرائیلی حکومت کے اتحادی بھی اسے چھوڑ کر جارہے ہیں۔ وزیر داخلہ اسرائیل کے لیے یہ چیلنج اور بھی اہم ہو گا جو اس سے پہلے دوہزار پندرہ میں ایسا ہی ایک مسودہ قانون ایوان کی منظوری کے لیے پیش کر چکے ہیں۔
اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ماہ مئی کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی طرف سے پتھراو کرنے کے 227 واقعات پیش آئے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی قابض فوج اور پولیس کی طرف سے کی گئی فائرنگ یا شیلنگ کا اس رپورٹ میں ذکر نہیں ہے۔







