داعش نے مزار شریف کے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

22 اپریل, 2022 12:01

شیعیت نیوز: علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ داعش نے مزار شریف پر خودکش حملے جس میں 30 سے ​​زائد افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں، کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان میں طالبان حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو ملک بھر میں چار بم دھماکوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔

داعش نے مزار شریف پر خودکش حملے جس میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں، کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جمعرات کی دو پہر مزار شریف کی ایک شیعہ مسجد میں ظہر کی نماز کے دوران 30 سے زائد نمازی جاں بحق اور 90 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ دھماکہ ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔

داعش نے اس حملے کے علاوہ شہر قندوز میں ایک اور بم دہماکے جس میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے، کی ذمہ داری قبول کر لی۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کے روز کابل میں لڑکوں کے ایک اسکول میں ’’عبدالرحیم شہید‘‘ اسکول پر د خودکش حملے میں کم از کم 20-25 طلباء شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی یوم قدس فلسطینیوں کی حمایت کا دن ہے، آیت اللہ سید احمد خاتمی

دوسری طرف ایرانی وزیر صحت نے اپنے حالیہ پیغام میں مزار شریف کی مسجد میں خودکش دہماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کے لیے کسی بھی انسانی امداد کے لیے تیار ہے۔

بہرام عین اللہی نے آج بروز جمعہ اپنے ایک پیغام میں حالیہ دنوں میں رمضان المبارک کے مہینے میں مزار شریف میں شیعوں کی مسجد ‘سہ دکان’ اور کابل میں لڑکوں کے ایک اسکول میں عبدالرحیم شہید اسکول پر خودکش حملوں جس میں بہت روزہ دار نمازی اور طالب علم شہید اور زخمی ہوگئے، کی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ ہم افغان عوام کو کسی بھی انسانی امداد بھیجنے پر تیار ہیں۔

ایرانی وزارت صحت نے نظام کے فریم ورک میں افغانستان کے پناہ گزینوں کی طبی امداد کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مزارشریف میں شیعوں کی سب سے بڑی مسجد’’سہ دکان‘‘ پر خودکش حملے کے نتیجے میں 11 افراد روزہ دار نمازی شہید اور 32 افراد زخمی ہو گئے۔

7:47 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top