ماریوپول میں 2000 یوکرینی فوجی روسی فوج کے محاصرے میں
شیعیت نیوز: روس کی فوجیں مشرقی یوکرین میں دفاعی لائن توڑنے میں مصروف ہیں۔یوکرین کے شہر کے ماریوپول پر روس کا مکمل قبضہ ہوگیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یوکرین کو بھاری اسلحہ کی فراہمی سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے، مشرقی یوکرین کے علاقوں لوہانسک، ڈونٹسک، خیرسون اور خارکیف میں یوکرینی فورسز بھرپورمزاحمت کررہی ہیں۔
روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگوف نے صدر پوتین کے ساتھ ملاقات میں بتایا ہے کہ اسٹیل کے ایک کارخانے کو چھوڑ، یوکرین کے شہر ماریوپول پر روسی فورسز کا مکمل قبضہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرینی ملیشیاوں کے تقریبا 2000 اہلکار فولاد کے مذکورہ کارخانے میں موجود ہیں، جنہیں ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
روسی وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ 1 لاکھ 42 ہزار سے زائد عام شہریوں کو ماریوپول شہر سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہرکی صورتحال مکمل طور سے پرسکون ہے اور عام شہری چاہیں تو اپنے گھروں کو واپس آسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی اور یورپی عہدیداروں کا ایٹمی معاہدے سے متعلق بڑا بیان
دوسری جانب روسی وزیر دفاع نے یوکرین کے شہر ماریوپول پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے اور روسی صدر ولادیمیرپوتین نے کامیاب آپریشن پر وزیر دفاع کو مبارکباد دی ہے۔
ولادیمیرپوتین نے وزیر دفاع کو ازوستال پلانٹ پر چڑھائی سے گریز اور سخت محاصرے کی ہدایت کی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتین نے اسٹیل مل پر حملے کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے روسی فوج کو ایسا کرنے روک دیا ہے۔
یوکرین نے روس سے ازوستال پلانٹ سے زخمیوں کو نکالنے کی اجازت مانگی ہے۔
روسی صدر کا کہنا ہے کہ ازوستال پلانٹ میں ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں کو جان کی ضمانت دیتے ہیں۔
ماریوپول کےازوستال اسٹیل پلانٹ میں اب بھی 2 ہزار سے زائد یوکرینی جنگجو موجود ہیں اور روسی فوج نے پلانٹ کا حفاظت کی ساتھ محاصرہ کر رکھا ہے۔







