صیہونی وزیر اعظم کی حالت مزید خراب، اسرائیلی پارٹی یو اے ال نے حمایت روکی
شیعیت نیوز: اسرائیل کے برسر اقتدار اتحاد میں شامل عرب اسرائیلی پارٹی یو اے ال نے مقدس مسجد الاقصی میں فلسطینی نمازیوں کے خلاف صیہونی فورسز کے بے لگام تشدد پر اعتراض میں، اس اتحاد میں اپنی شراکت کو روک دیا ہے۔
عرب اسرائیلی پارٹی یو اے ال نے مسجد الاقصی میں اسرائیل فورسز کے حملے کے تین دن بعد، جس میں 150 سے زیادہ نمازی زخمی ہوئے، اتوار کو یہ قدم اٹھایا ہے۔
یو اے ال نے کہا ہے وہ وزیر اعظم نفتالی بینٹ کو اپنی حمایت اور پارٹی کی پارلمانی سرگرمیوں کو معطل کر رہی ہے۔
عرب اسرائیلی پارٹی نے جس کی بنت کے اتحاد میں چار سیٹیں ہیں، انتباہ دیا ہے کہ اگر بیت المقدس میں فلسطینی عوام کے خلاف تل ابیب کے اقدامات جاری رہے، تو وہ اتحاد سے نکل جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : بحران یمن کے لئے امریکہ ذمہ دار ہے،روس نہیں: رکن الہان عمر
120 سیٹوں والی صیہونی پارلیمنٹ میں 60 سیٹوں والے بینٹ اتحاد کی حالت پہلے سے ہی خراب ہے ۔
گزشتہ جولائی میں یو اے ال نے واضح طور پر اپنے موقف کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ مسجد الاقصی پوری طرح مسلمانوں کی ملکیت ہے اور کسی کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہارٹص لکھتا ہے کہ یہ تشویش سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹوں سے بھی بڑھی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اسرائیل مسجد الاقصی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے تل ابیب کی پولیس اور فوجیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تحریک حماس اور اسلامی وقف بورڈ کے حکام کی جانب سے ممکنہ حملے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
اس اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب کی پولیس عربہ اور حیفا شہروں میں ممکنہ مظاہروں کے لئے خود کو تیار کر رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کو بھی البراق دیوار کے نزدیک بیریکیٹ تیار کرنے کے لئے الرٹ کر دیا گیا ہے۔







