روس-یوکرین کشیدگی کے دور ہونے میں امریکہ اصل رکاوٹ ہے، نوآم چامسکی
شیعیت نیوز: مشہور امریکی ماہر لسانیات اور دانشمند نوآم چامسکی نے کہا ہے امریکہ، روس-یوکرین کے مابین کشیدگی کا حل نہیں چاہتا بلکہ وہ اس راہ کی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے ایک امریکی میگزین کو انٹرویو میں کہا کہ امریکہ سنہ 2015 سے روس کے خلاف یوکرین کو مسلح کر رہا اور ٹریننگ دے رہا ہے اور وہ یوکرین کے ساتھ نیٹو کی ایک شاخ کی طرح پیش آتا ہے۔
چامسکی نے کہا کہ یہ موقف جو امریکی صدر جو بائیڈن کے ستمبر سنہ 2021 کے سرکاری بیان میں واضح پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے، یوکرین کے ساتھ روس کی بڑھتی کشیدگی اور اُس پر حملے کے فیصلہ میں ممکنہ طور پر موثر سبب رہا ہے۔
نوآم چامسکی نے یوکرین جنگ کو ختم کرانے میں بیجنگ کی طرف سے ممکنہ مدد کے بارے میں کہا کہ چین یوکرین میں مذاکرات کے ذریعے پر امن افق کے لئے اقدام کر سکتا ہے لیکن ظاہرا ایسا لگتا ہے کہ اس کام میں چین کو اپنا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہم فلسطینیوں کی مزید کارروائیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، نفتالی بینیٹ
دوسری جانب روس-یوکرین جنگ کے چوالیسویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اس بیچ، کی یف کا کہنا ہے کہ ایک ریلوے اسٹیشن پر روس کے راکٹ حملے میں درجنوں افراد مارے گئے۔
یوکرینی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین کے دونباس علاقے میں ایک ریلوے اسٹیشن پر روس کے راکٹ حملے میں کم سے کم 35 لوگ مارے گئے اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روس نے اس حملے کے الزام کو خارج کیا ہے۔
سرکاری ریلوے کمپنی کا کہنا ہے کہ کرماتورسک شہر کے ریلوے اسٹیشن پر دو روسی راکٹ لگے جو جمعے کے دن لوگوں کی منتقلی کے لئے استعمال ہو رہا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے ایسے کسی بھی حملے کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے بیان میں آیا ہے، ”شہر کرماتورسک کے ریلوے اسٹیشن پر 8 اپریل کو راکٹ حملے پر مبنی کی یف کے نمائندوں کا بیان پوری طرح غلط ہے اور اُس میں روس پر الزام عائد کیا گیا ہے۔
تاس نیوز ایجنسی نے خود ساختہ دونیسک جمہوریت کے کمانڈر کے حوالے سے کہا ہے کہ میزائیل حملہ یوکرین کا اشتعال دلانے والا اقدام ہے۔
دوسری طرف یورپی یونین کاؤنسل کے چیف چارلس مائیکل نے بھی راکٹ کے خطرناک حملے کے لئے روس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ماسکو، شہریوں کے فرار کرنے کے سبھی راستے بند کرنا چاہتا ہے۔







