ترکی کا جمال خاشقجی کے قتل کیس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ
شیعیت نیوز: ترکی نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خاطر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے دست بردار ہونے اور اس کیس کو سعودی عرب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ترک پراسیکیوٹرنے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا کیس سعودی عرب منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
ادھرترک وزیر انصاف نے کہا ہے کہ ترک وزارت انصاف پراسیکیوٹر کی درخواست پر مثبت رائے دے گی۔ ترک پراسیکیوٹر نے گزشتہ روز 26 سعودی مشتبہ افراد کے مقدمے کی سماعت روکنے اور اسے سعودی عرب منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انقرہ، ریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے، ترکی کی عدالت میں مقدمے کی اگلی سماعت 7 اپریل کو ہونا ہے۔
یاد رہے کہ عالمی شہرت یافتہ صحافی جمال خاشقجی کو 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر بہمیانہ طور پرقتل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : مغربی ممالک ایرانو فوبیا کے منصوبے کو جاری رکھنے کی تلاش میں ہیں، خطیب زادہ
دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جمعہ کی شام اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
ٹیلی فونک گفتگو میں ترک صدر نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹیلی فون پر گفتگو میں اردگان نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی شہادت کی حالیہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا قرار دیا۔
صوبہ حیفہ کے شہر الخدیرہ اور مقبوضہ علاقوں میں واقع تل ابیب کے ضلع بنی برق میں گزشتہ اتوار اور منگل کی درمیانی شب متعدد فلسطینی نوجوانوں کی شہادت ہوئی جس کے دوران کم از کم سات صہیونی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
میڈیا نے رپورٹ کیا کہ شہر کے بہت سے شدت پسند گروپوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تیاری کے اس اعلان کی وجہ یہ ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے مہینے میں اسلامی تقریبات اور یہودی تہوار ایک ساتھ آئے ہیں۔
گذشتہ سال قدس شہر نے صیہونی حکومت اور اس کے باشندوں کے فوجی دستوں کے بہت سے جرائم اور جارحیت کا مشاہدہ کیا؛ ان میں سے زیادہ تر جرائم مسجد اقصیٰ، باب العمود اور شیخ جراح کے اطراف میں ہوئے۔ جھڑپوں میں درجنوں فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔







