یوکرائن میں روس کے تربیت یافتہ فوجی لڑر ہے ہیں، جنگ آج تیرہویں دن بھی جاری
شیعیت نیوز: روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ آج تیرہویں دن بھی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں بھی معمولی پیشرفت ہوئی ہے، جس کی وجہ سے یوکرائن کے بعض شہروں سے عام شہریوں کو خارج ہونے کا موقع ملا ہے ۔
امریکہ اور یورپی ممالک کی منافقانہ اور دوگانہ پالیسی کا سلسلہ بھی جاری ہے ان کی طرف سے یوکرائن کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کئے جارہے ہیں۔ جبکہ چین نے یوکرائن کو امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ہتھیار فراہم کرنے کے عمل کو اشتعال انگیز قراردیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
ادھر روس کے صدر پوتین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرائن میں روس کے تربیت یافتہ فوجی لڑ رہے ہیں۔
دوسری طرف یوکرائن کی وزارت دفاع نے دعوی کیا ہے کہ روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرائنی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے اس جھڑپ میں متعدد روسی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق روس اوریوکرائن کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔ روس کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ میں سلامتی برقرار رکھنے کی طاقت خطے کے لوگوں کو واپس آنی چاہیے، وانگ یی
ذرائع کے مطابق اگر روس نے یورپی ممالک کا گیس کاٹ دیا تو یورپی ممالک کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے روس کے تیل اور گيس شعبوں پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کردیا ہے۔
دوسری جانب یوکرائن کی طرف سے روس کی جنگ بندی کی پیش کش ٹھکرانے کے بعدروس نے یوکرائن کے مزید 26 فوجی ٹھکانے تباہ کردیئے ہیں جبکہ برطانوی سفیر نے یوکرائن کو ترک کردیا ہے۔ یوکرائن میں جنگ کا سلسلہ تیرہویں دن بھی جاری ہے۔
یوکرائن سے شہریوں کے محفوظ انخلا تک روس کی محدود جنگ بندی کی پیشکش کو یوکرائن نے مسترد کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یوکرائن نے شہریوں کے انخلا کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ انخلا کے راستے شہریوں کو روس یا اس کے اتحادی ملک بیلاروس کی طرف لے جائیں گے۔
روس نے یوکرائن کے بڑے شہروں کیف، ماریوپول، خارکیف اور سومی کیلئے محدود جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ شہریوں کو انخلا کی اجازت دی جاسکے۔ تاہم یوکرائن کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویریشچک نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
ادھر روسی فوج نے دارالحکومت کیف کا محاصرہ مزید تنگ کردیا ہے۔ روسی فوج کی کیف کی جانب پیشقدمی جاری ہے۔ روسی جنگی طیارون نے یوکرائن کے مزید 26 فوجی ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔







