ممکنہ معاہدے کے روکنے کیلیے صیہونی حکومت کی تازہ ترین کوششیں
شیعیت نیوز: ویانا مذاکرات اپنے آخری اور اہم دنوں سے گزر رہے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے دورہ تہران سے قبل ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی تشکیل کے روکنے کے لیے اپنی آخری کوشش کیلیے ان سے ملاقات اور گفتگو کی۔
ارنا کے مطابق ویانا میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات اہم اور نازک دنوں سے گزر رہے ہیں جبکہ وفود اور مذاکرات کار زیادہ فعال ہو گئے ہیں اور ممکنہ معاہدے کے مسودے کے متن کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک کے سنیئر مذاکرات کار علی باقری کنی نے نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے اقتصادی سفارت کاری مہدی صفری کے ساتھ مل کر گزشتہ روز تین یورپی ممالک کے مذاکراتی وفود کے سربراہوں سے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں : حضرت زینب کبری (س) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے دنیا بھر میں جشن و سرور
برطانوی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اس ملاقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موثر مذاکرات ہمیں فائنل لائن تک پہنچنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے روسی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ میخائل الیانوف سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات سے قبل علی باقری نے یورپی یونین کے نمائندے اور مذاکرات کے کوآرڈینیٹر اینریک مورا سے ملاقات کی تھی۔
گروسی جمعہ کی رات ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے جہاں ایرانی ایٹمی ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ان کا استقبال کیا۔
اس سے پہلے اسرائیل کی صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نفتالی بینیٹ نے عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کے دورہ ایران سے قبل، ان سے ملاقات کی ہے۔
نفتالی بینیٹ نے اس ملاقات میں ویانا مذاکرات اور آئی اے ای اے میں ایران کے جوہری پروگرام کی کھلی فائلوں کے حوالے سے صیہونی ریاست کا موقف بیان کیا۔
بیان کے مطابق، نفتالی بینیٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل، آئی اے ای اے سے ایک پیشہ ور اور غیر جانبدار ادارے کے طور پر کام کرنے کی توقع رکھتا ہے۔







