فلسطین: الرملہ میں فلسطینی تجارتی مرکز منہدم کر دیا گیا
شیعیت نیوز: اسرائیلی اتھارٹی نے سوموار کی شام الرملہ میں ایک تجارتی مرکز تباہ کر دیا۔
مقامی آبادی پر اپنا رعب قائم رکھنے اور دہشت بڑھانے کی غرض سے الرملہ میں تجارتی مرکز کو گرانے کی ظالمانہ حرکت کی گئی ہے۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ مواصلاتی رابطے کے لیے تار بچھانے اور قریبی شاہرات کی مرمت کے لیے مرکز گرایا جا رہا ہے۔
تجارتی مرکز کے مالکان میں سے ایک ابراہیم بدویہ ہیں۔ ان کے بقول اسرائیلی بلڈوزروں نے اپنے مواصلاتی ادارے کے قیام کی خاطر 35 سال سے قائم ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے۔ ابتدائی طور پر تین دکانوں کو نقصان پہنچایا، پھر پورا مرکز منہدم کر دیا گیا۔
ظلم کی انتہا یہ ہے کہ دکان داروں کو اپنا سامان تک اٹھانے کی مہلت نہیں دی گئی۔ کاروباری حضرات ایک بڑے مالی نقصان کا شکار ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنین کے مغرب میں سلہ الحارثیہ قصبے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی عمر جرادات کے گھر کو مسمار کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ صیہونی حکام نے اسیر کے اہل خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی اپیل کو مسترد کردی اور مکان کی مسماری کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل بین الاقوامی بحران کا فائدہ اٹھا کر جرائم کا ارتکاب کررہا ہے، ریاض المالکی
گذشتہ جنوری میں صیہونی حکام نے دو قیدیوں، غیث اور عمر جرادات کے اہل خانہ کو ان کے گھروں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’’خالی کی گئی حومش‘‘ بستی کے قریب ایک کمانڈو آپریشن کیا تھا۔
صیہونی حکام نے عمر اور غیث جرادات کو گرفتار کیا اور ان پر دسمبر کے وسط میں حومش کی خالی کردہ بستی کے قریب فائرنگ سے حملہ کرنے کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں ایک آباد کار ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔
صیہونی حکام نے 27 دسمبرکو عمراورغیث کی والدہ عاطف جرادات کو بھی گرفتار کیا۔ انہوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، تلاشی لی اور توڑ پھوڑ کی، اور ایک سے زیادہ مرتبہ انہیں حراست میں لیا گیا۔
گذشتہ 20 دسمبر کو فجر کے وقت قابض فوج نے انجینیرنگ یونٹوں کے ہمراہ قیدی جرادات کے گھر پر چھاپہ مارا اور مکان کو مسمار کرنے کی تیاری کے سلسلے میں اس کی پیمائش کی۔
14 فروری کو قابض حکام نے آپریشن حومش کے ہیروز میں سے ایک جنین میں قید محمود جرادات کے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا۔






