حکومت پابندیوں کو ہٹانے کے لیے سرگرم عمل ہے، حسین امیر عبداللہیان
شیعیت نیوز: ایرانی وزیر خارجہ نے خبر رساں ایجنسیوں کے سی ای اوز اور ملکی پریس اور میڈیا کے مینیجرز کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ حکومت پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے اور ہٹانے کے معاملے پر سرگرم عمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق حسین امیر عبداللہیان نے بدھ کے روز وزارت خارجہ میں نیوز ایجنسیوں کے سی ای اوز، ملکی پریس اور میڈیا کے ایڈیٹر انچیف کے ایک گروپ کی میزبانی کی۔
انہوں نے اس دوستانہ ملاقات میں میڈیا کے ساتھ ملاقاتوں اور بات چیت کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پابندیوں کو غیر موثر بنانے اور ہٹانے کے معاملے پر سرگرمی سے کام کیا جاتا ہے اور حکومتی اقدامات اور کوششوں کے اثرات کو لوگوں کی زندگیوں میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وزیر خارجہ نے ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت کی رپورٹ بھی پیش کی۔
امیر عبداللہیان نے یوکرین میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بحران کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطہ نظر اور اس ملک میں ایرانی شہریوں کے حوالے سے وزارت خارجہ کے اقدامات اور پیروی کی وضاحت کی۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی وزیر ثقافت کی سید حسن نصراللہ سے ملاقات
اس ملاقات میں ملک کے سینئر میڈیا ایگزیکٹوز نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے خیالات اور آراء پیش کیں اور وزیر خارجہ نے ان کے سوالات کے جوابات دیے۔
دوسری جانب قطری وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ایک ٹیلی فونک ربطے کے دوران، خطے کی تازہ ترین تبدیلیوں کا جائزہ لینے ان سے باہمی تعلقات بڑھانے پر بھی گفتگو کی۔
رپورٹ کے مطابق، شیخ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی” نے آج بروز بدھ کو "حسین امیر عبداللہیان” سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان سے باہمی دلچسبی امور پر مذاکرات کیے۔
نیز دونوں فریقین نے اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران، علاقے کی تازہ ترین تبدیلیوں، ویانا مذاکرات اور باہمی تعلقات کے فروغ کے طریقوں پر بات چیت کی۔
قطری میڈیا نے قطری حکومت کے تہران کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، مزید کہا کہ دوحہ نے پچھلے ایران اور امریکہ کے موقف کو خلیج فارس ممالک کے قریب لانے کی تجویز پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ قطری وزیر اعظم کے نائب سربراہ اور وزیر خارجہ نے 27 جنوری کو دورہ تہران کرتے ہوئے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ افغانستان اور یمن سمیت اہم علاقائی مسائل اور تبدیلوں پر مذاکرت کیے تھے۔







