اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن نے 16.5 ملین ڈالر مالیت کی فلسطینی ضمانت ضبط کرلیں
شیعیت نیوز: سنہ 1948 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہری حقوق کی تنظیم نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ ضمانت کی رقم واپس کرے جو انتظامیہ نے فلسطینیوں سے جمع کی تھی جس کی رقم تقریباً 16.5 ملین ڈالر تھی۔
ایسوسی ایشن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ یہ رقوم زیر حراست افراد کی رہائی کی ضمانت کے طور پر، یا تحقیقات میں حاضری کے ثبوت کے طور پر جمع کی گئی تھیں اور سول ایڈمنسٹریشن کو اسے اپنے ادائیگی کرنے والوں کو واپس کرنا پڑے گا۔ قانون کے مطابق اسرائیل یہ رقم واپس کرنے کا پابند ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تین فلسطینیوں کو جنہیں اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے 2019 میں گرفتار کیا تھا۔ان کی گرفتاری جنگلی جڑی بوٹیاں چننے کے الزام میں عمل میں لائی گئی تھی۔ ان سے ان کی رہائی کی شرط کے طور پر دو ہزار 350 ڈالر ادا کرنے کو کہا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے بعد یہ رقم انہیں واپس نہیں کی گئی اور اسے ضبط کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : برطانوی دہشت گرد افغانستان پہنچنے کی کوشش میں
ایسوسی ایشن نے تصدیق کی کہ اس نے اسرائیلی پولیس، سول ایڈمنسٹریشن ، ملٹری پراسیکیوشن اور ملٹری کورٹس کو درجنوں بار مکتوب ارسال کیے ، جبکہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی اور انہیں دوسرے پر پھینک دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سول انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ان فلسطینیوں کی جمع کی گئی رقوم کی واپسی میں ناکامی ایک قسم کی خرابی کا نتیجہ ہے اور انتظامیہ نے گذشتہ نومبر تک ان کے مالکان کو رقوم واپس نہیں کیں۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اس سے ایسوسی ایشن کو پتہ چلتا ہے کہ رقم ان کے مالکان کو واپس نہیں کرائی گئی اور اسرائیلی انتظامیہ رقم واپس کرنے کے انتظامات کی بالکل بھی پرواہ نہیں کرتی۔







