طلباء یونین پر 38 برس سے عائد پابندی ضیاء الحق کے آمرانہ دور حکومت کی سازش تھی،زاہد مہدی

09 فروری, 2022 11:01

شیعیت نیوز: امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر زاہد مہدی نے سٹوڈنٹس یونین پر عائد پابندی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سٹوڈنٹس یونین 38 سال گزرنے کے باوجود بحال نہیں ہو سکیں، 9 فروری 1984ء کو جنرل ضیاالحق کے دور میں سٹوڈنٹس یونین پر پابندی لگا دی گئی تھی، جس کے بعد جمہوری حکومتیں بھی آئیں لیکن طلبا یونین پر سے پابندی نہیں اٹھائی جا سکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے ذریعے ہی تمام سیاسی جماعتوں کو نظریاتی اور حقیقی قیادت میسر آتی تھی، مگر جب سے ضیاءالحق کے آمرانہ دور سے طلبا یونینز پر پابندی لگی ہے، اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں میں کاغذی اور جعلی قیادت کی بہتات ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اساتذہ کی ہڑتال جامعہ کراچی کے42 ہزار طلبہ کامستقبل داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، آئی ایس او

انہوں نے کہا کہ طلباء یونینز پہ 38سال سے طویل پابندی آمرانہ سازش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ طلباء یونین کی بحالی کیلئے موثر قانون سازی کی جائے تاکہ طلبا یونین کی بحالی کے بعد طلبا پاکستانی نظریاتی سیاست میں اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔

مرکزی صدر آئی ایس او زاہد مہدی نے مزید کہا کہ جب تک طلباء یونین پر پابندی ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک قوم کو تعلیم یافتہ، نظریاتی اور حقیقی قیادت میسر نہیں آ سکتی۔

6:40 صبح مارچ 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔