جعلی صیہونی ریاست کا دنیا کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے، حسین امیر عبداللہیان
شیعیت نیوز: ایرانی وزیر خارجہ نے جعلی صیہونی ریاست کے وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم اختیار اور عقلیت کے ساتھ قوم کے حقوق، مفادات اور ترقی کا دفاع کرتے ہیں اور صہیونی ریاست کا دنیا کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار حسین امیر عبداللہیان نے بروز پیر کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناجائز اسرائیلی ریاست کے وزیر خارجہ کے ایران کی عظیم قوم کے بارے میں پریشان کن ریمارکس ایک مشہور ایرانی کہاوت کی مثال ہے جس کا اردو مترادف ’’خیالی پلاؤ پکانا‘‘ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اختیار اور عقلیت کے ساتھ قوم کے حقوق، مفادات اور ترقی کا دفاع کرتے ہیں اور جعلی صیہونی ریاست کا دنیا کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہید جنرل قاسم سلیمانی کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا ، جنرل اسماعیل قاآنی
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے مغربی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ سرحدی تنازعات کی جڑ طالبان کا سرحدی مسائل پر علم کی کمی ہے۔
رسول موسوی نے کہا کہ گزشتہ ماہ شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، ایران اور پاکستان کی سرحدی افواج کے درمیان اور پیر کے روز ترکمانستان کے ساتھ سرحدی جھڑپیں جوزجان میں ہوئیں۔
ان تنازعات کی جڑ افغان سرحدی محافظوں کی غیر پیشہ ورانہ روش اور سرحد پر تعینات طالبان افواج کی جانب سے سرحدی مسائل کو تسلیم نہ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ مہینے میں طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے صوبے نیمروز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرحدی محافظوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد کہا ہے کہ واقعے پر قابو پالیا گیا اور ہم مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی کوشش کر رہے ہیں۔
دستیاب خبروں کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ہیرمند میں متعدد سرحدی کسانوں کے درمیان معمولی جھگڑوں کی وجہ سے ہونے والی یہ جھڑپ سیکورٹی فورسز کی مداخلت اور مذاکرات سے ختم ہوئی اور علاقے میں حالات پرامن ہونے کی اطلاع ہے۔







