مشکل ترین فیصلے کئے جائیں مگر عوام کیساتھ سچ بولا جائے، علامہ ساجد علی نقوی

01 جنوری, 2022 10:34

شیعیت نیوز: سربراہ شیعہ علماءوکونسل پاکستان واسلامی تحریک پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت کا بنیادی کام عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں، چھ سے سات ماہ کے دوران ایک اور بجٹ آنا باعث پریشانی ہے، نمک، کتابوں سمیت زرعی بیج بھی مہنگے کرنے سے سطح غربت میں مزید اضافہ ہو گا، معاشی تحفظ کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھنے کی بجائے خود انحصاری کی پالیسی اپنائی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کئے جانے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی ایماء پر عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ جمہوری حکومت کا بنیادی کام عوامی مفاد کو مد نظر رکھنا اور انہیں ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہر دور میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے اسے عالمی مالیاتی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انشاءاللہ سال 2022 تکفیریت سے پاک پاکستان کے طور پر منایا جائے گا، علامہ راجہ ناصرعباس

علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب ملک میں مڈل کلاس تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس نے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام انجام دینا ہوتا ہے اور اسی باعث امیر و غریب کے درمیان فرق مزید واضح ہونے کے ساتھ ساتھ سطح غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سالانہ بجٹ پر کہا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ایسی ہیں کہ شائد کچھ عرصہ بعد پھر منی بجٹ کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا جائےگا اور ایسا ہی کیا گیا، پہلے جواز تراشا جاتا تھا کہ مہنگائی بیرونی اشیاء کی درآمد سے ہوتی ہے مگر منی بجٹ میں گوشت، نمک، بچوں کے دودھ، کتابوں اور سلائی مشینوں سمیت کپاس و دیگر اجناس پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے، جنہیں درآمد نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 31دسمبر ، آج اس عظیم شہید کا یوم شہادت ہے جس کے پاکیزہ لہو نے ملت تشیع میں بیداری کی روح پھونکی

شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ کبھی بھی عالمی مالیاتی اداروں کے اشاروں پر چل کر ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ اس سے ایک طرف ملک مزید عالمی مالیاتی اداروں کی دلدل میں دھنسے گا تو دوسری جانب عوام کا جینا محال ہو جائے گا اس لئے ضروری ہے کہ ان مالیاتی اداروں کی بجائے ملکی مفاد میں مشکل ترین فیصلے کئے جائیں مگر عوام کے ساتھ سچ بولا جائے اور خود انحصاری کی پالیسی اپنائی جائے۔

5:30 شام اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔