ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سےزائرین کے داخلے پر پابندی،ہزاروں پاکستانی زائرین ایام فاطمیہ ؑ پر ایران جانے سے محروم
شیعیت نیوز: ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے غیر ملکی زائرین کے داخلے پر پابندی ، پاکستان سے ایام فاطمیہ پر ایران کے جانے کے خواہشمند ہزاروں زائرین شدید مشکلات کا شکار،ویزوں کے اجراء ،ایئر ٹکٹس، بسوں اور ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ کے سبب کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ۔ پاکستانی زائرین کا ایرانی حکومت سے فیصلےپر نظر ثانی مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ایرانی وزارت خارجہ کے حکم پر اسلام آباد میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق 25 دسمبر 2021 سے ایران میں زمینی، ہوائی اور بحری راستوں سے داخل ہونے والے زائرین اور سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ہر سال پاکستان سے ایام شہادت دختر رسولؐ شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے موقع پر ہزاروں زائرین عزاداری کی غرض سے خصوصی طور پر ایران کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ قم میں حضرت معصومہ ؑ کے مزار مقدس پر حاضری دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرسمس اور بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کا یوم ولادت، علامہ ساجد نقوی کی مسیحی اور پاکستانی قوم کو مبارکباد
باوثوق ذرائع کے مطابق اس سال بھی ایام فاطمیہ ؑ میں شرکت کیلئے 20 سے 22 ہزار کے قریب پاکستانی زائرین ایران جانے کے لئے مکمل تیار تھے کہ اچانک ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی۔ یہ خبر سن کرروپیہ روپیہ جوڑ کر زیارات مقامات مقدسہ کی تیاری کرنے والے غریب زائرین کے پیروں سے تو جیسے زمین ہی نکل گئی ہو ۔
اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے ایران جانے کیلئےآمادہ قافلوں کے سالاروں نے ہزاروں زائرین سے کروڑوں روپے وصول کرکے ویزے لگوائے اور جہازوں ، بسوں اور ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ بھی کروارکھی ہے ،کروڑوں روپےکی ان ایڈوانس بکنگس کی رقوم کی واپسی ناممکن ہے جس سے زائرین اور قافلہ سالاروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا بھی اندیشہ ہے ۔
زیارات مقامات مقدسہ کے خواہشمند زائرین اور گروپ آرگنائزرز نے حکومت ایران بالخصوص ایرانی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر زائرین کے داخلے پر عائد پابندی ختم کریں تاکہ ہم ایام فاطمیہ ؑ پر زیارات اور عزاداری سے مستفید ہوسکیں اور ہماری داؤ پر لگی رقوم بھی ڈوبنےسے بچ سکیں۔







