کوٹلی امام حسینؑ کی تقسیم یا اس کے کسی خاص حصے پہ حکومت کی جانب سے چاردیواری کی تعمیر ہمیں قطعاً قبول نہیں،شیعہ تنظیمات
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین ڈی آئی خان کے سیکرٹری جنرل علامہ غضنفر نقوی نے کہا ہے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی تقسیم یا اس کے کسی خاص حصے پہ حکومت کی جانب سے چاردیواری کی تعمیر ہمیں قطعاً قبول نہیں اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ڈبلیو ایم ڈی آئی خان کے ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
علامہ غضنفر نقوی کا کہنا تھا کہ اجلاس کے شرکاء نے ساٹھ، ستر یا 119 کنال کے پلاٹ پہ چاردیواری کی تعمیر کی شدید مذمت کی ہے۔ ہم اس بات پہ متفق ہیں کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی مکمل چاردیواری دی جائے یعنی 327 کنال 9 مرلےپہ۔ یہ ہمارا حق ہے۔ ہم حکومتی و سیاسی نمائندوں کو اس جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں کوٹلی کے کسی خاص پہ چاردیواری کی تعمیر کا ذکر کرکے ہمارے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ انہوں نے اہل تشیع ڈی آئی خان کی تمام انجمنوں، اکابرین و متولیان اور نوحہ خوانوں سے بھی اپیل کی کہ اس قومی ایشو پہ مکمل اتفاق رائے سے آواز بلند کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس نے مقتدر ریاستی ادارے کے دفتر پر اہل خانہ شیعہ جبری گمشدگان کے جاری احتجاج پر دھاوا بول دیا
قبل ازیں تحریک تحفظ شیعہ وقف کوٹلی امام حسین (ع) و دیگر انجمنوں نے کوٹلی امام حسین (ع) کے ایک مخصوص پلاٹ پہ چاردیواری کی تعمیر سے متعلق اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے اہل تشیع کیلئے کوٹلی امام حسین (ع) وہ حد ہے کہ جس پہ کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوٹلی کی اراضی 327 کنال 9 مرلے ہے۔ حکومت کا پہلا ظلم اس اراضی کا غیر قانونی ناجائز انتقال ہے، جو وقف امام حسین (ع) سے حکومتی ملکیت میں کیا گیا۔ حکومت کا دوسرا ظلم 327 کنال 9 مرلے میں سے 119 کنال پہ ملکیت خیبر پختونخوا کی حکومت اور امام حسین (ع) کو کاشتکار لکھا گیا۔ جو کہ گستاخی اہلبیت (ع) ہے، گستاخی شعائر اسلام ہے۔ حکومت کا تیسرا ظلم 60 سے 70 کنال اراضی پہ چاردیواری کی تعمیر کی تیاری ہے، جس کیلئے تقریبا ڈھائی کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا گیا ہے۔ چاردیواری کی تعمیر نہ صرف تشیع اور عزاداری کو محدود کرنے کی ناپاک کوشش ہے بلکہ باقی اراضی سے تشیع کو بیدخل کرنے کا عملی اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گیس بحران کا مقابلہ، قومی مفاد میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کی تکمیل ناگزیر ہے،علامہ سید ساجد نقوی
تشیع انجمنوں کا کہنا تھا کہ ہم شیعان علی ڈی آئی خان وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومت کو متنبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں ایسی کوئی تعمیر، کوئی دیوار ہرگز ہرگز قبول نہیں جو کہ کوٹلی کی کل اراضی کو تقسیم کرے۔ اگر وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومت شیعان علی کی خیر خواہ ہے تو 327 کنال 9 مرلے کی مکمل چار دیواری دے اور اس کی سابقہ تاریخی حیثیت یعنی وقف امام حسین (ع) بحال کرے۔
بعض حلقوں کی جانب سے اس امر پہ بھی شدید حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں، سرکاری فنڈز کے اجرا اور خرچ پہ پابندی ہے تو اس پابندی کے باوجود انتخابات کے موقع پہ اجراء یقینا سیاستکاروں کے کارکنوں کو نوازنے کی عملی کوشش ہے۔







