فلسطینی قیدیوں کی آزادی قریب ہے، القسام بریگیڈ

20 اکتوبر, 2021 10:16

شیعیت نیوز: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس سے وابستہ القسام بریگیڈ نے قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں شالیت سمجھوتے کی دسویں سالگرہ کی مناسبت سے فلسطینی قیدیوں کی تصاویر کے ساتھ ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان قیدیوں کی آزادی کا وقت قریب ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس سے وابستہ القسام بریگیڈ نے فلسطینی قیدیوں کی تصاویر کے ساتھ ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان قیدیوں کی آزادی کا وقت قریب آگیا ہے۔

یہ سمجھوتہ اکتوبر دو ہزار گیارہ میں طے پایا تھا جسے شالیت سمجھوتے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سمجھوتے میں ایک ہزار ستائیس، فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے عوض صیہونی فوجی گلعاد شالیت کو چھوڑنے کی بات کہی گئی ہے۔ صیہونی حکومت اس سمجھوتے کو ایک ایسا المیہ سمجھتی ہے کہ جس کے اثرات دس برس گذرنے کے بعد بھی اب تک ختم نہیں ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں نے صیہونی جیل حکام کے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال پر فلسطینی گروہوں نے ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

صیہونی جیلوں میں اس وقت چار ہزار آٹھ سو پچاس فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں دو سو پچیس بچے اور اکتالیس عورتیں شامل ہیں اور پانچ سو چالیس ایسے قیدی ہیں کہ جن پر کوئی فرد جرم تک عائد نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عراق، شہر ناصریہ میں امریکی فوجی قافلے پر حملہ

دوسری جانب فلسطینی بچےالزبیدی نے بتایا کہ جب وہ بستی میں پہنچے تو دوسرے آباد کار دوڑتے ہوئےآئے اور گالیوں اور تشدد کا مظاہرہ کیا جبکہ میرے منہ پر تھوکا اور کالل مرچیں چھڑکیں۔

ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صہیونی ریاست اسرائیل میں مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے قصبے سیلہ الضاہر کے نزدیک اسرائیلی شر پسند آباد کاروں کے ہاتھوں دو ماہ قبل 15 سالہ فلسطینی لڑکے جس کا نام طارق الزبیدی بتایا جاتا ہے کے اغوا اور بازیابی کے بعدجاری بیان میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس کے مطابق فلسطینی بچے کو پیدل چلتے ہوئے اس کے قصبے سے اغوا کیا گیا تھا۔

مزید تفصیلات میں بچے کے بیا ن کے مطابق الزبیدی کا کہناہے کہ شر پسند آباد کار میری طرف آئے اور مُجھے اپنی کار سے ٹکرماری جس کے نتیجے میں زمین پر گر گیاتاہم چارآباد کارگاڑی سے باہر نکلےاور انہوں نے مجھ پرلاٹھیاں برسائیں اورٹھوکریں ماریں اور رسیوں میں جکڑکرقریبی یہودی کالونی میں لے گئے۔

فلسطینی بچےالزبیدی نے بتایا کہ جب وہ بستی میں پہنچے تو دوسرے آباد کار دوڑتے ہوئےآئے اور گالیوں اور تشدد کا مظاہرہ کیا جبکہ میرے منہ پر تھوکا اور کالل مرچیں چھڑکیں۔

8:57 صبح مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔