عمران خان حکومت کا دوہرا معیارِ انصاف، کالعدم تحریک طالبان کے قاتلوں کیلئے عام معافی اور محب وطن مدافعانِ حرم آلِ رسولؐ کیلئےقید خانے
شیعیت نیوز: حکومت پاکستان اور ملک دشمن کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مزاکرات اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ان دہشت گردوں کو مشروط معافی دینے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد 70 ہزار سے زائد شہدائے پاک وطن کے ورثاء کے زخم تازہ ہوگئے ہیں،عمران خان اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید اور اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسی طرح کی باتیں کرکے خانوادہ شہداء کے جذبات کو مجروح کیا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا اسلامی شرعی قوانین میں کسی بھی حاکم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مسلمان کے قاتل کو معاف کردے ؟
تفصیلات کےمطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے مذاکرات کی تصدیق اور معاف کرنے کی پیشکش کے بعد سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں ردِ عمل آ رہا ہے۔ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم وہ اس بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں مسائل کے عسکری حل کے بجائے مزاکرات پر یقین رکھتا ہوں۔
واضح رہے کہ عمران خان جن دہشت گردوں کیلئے معافی کی پیشکش کررہے بقول ہمارے سکیورٹی اداروں کے کہ انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی میں نے اس ملک میں 70 ہزار سے زائدبے گناہ شیعہ سنی عوام کو بے دردی سے قتل کیا، یہ وہی دہشت گرد ہیں جنہوں نے آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو سفاکانہ انداز میں شہید کیا، یہ وہی دہشت گرد ہیں جنہوںنے پاک فوج کے جوانوں کے سروں کو تن سے جدا کرکے ان سے فٹبال کھیلی ، یہ وہی دہشت گرد ہیں جنہوں نے مساجد ، امام بارگاہ ، دربار اور بازار خون سے رنگین کیئے، یہ وہی دہشت گرد ہیں جنہوں نے جی ایچ کیو، مہران بیس ، کراچی ایئرپورٹ ودیگر حساس تنصیبات پر حملے کیئے ۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہزارہ شیعوں ، وکیلوں اور کھلاڑیوں کی ٹارگیٹ کلنگ
دوسری جانب اسی ریاست میں چند درجن ایسے جوان اور وعلماء بھی قید تنہائی کا شکار ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے عراق و شام جاکر عالمی دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لیااور اہل بیت رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے مزارات مقدسہ کا تحفظ کیا، ان شیعہ جبری گمشدگان پرپاکستان میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا کوئی الزام عائد نہیں ہے ۔ان درجنوں شیعہ لاپتہ شہریوں کے اہل خانہ روز جیتے اور روز مرتے ہیں، اگر کسی کا پیارا مرجائے اور اسے اپنے ہاتھوں سے اپنی نگاہوں سے سپرد خاک کردیا جائے تو وقت گذرنے کے ساتھ انسان کو صبر آجاتا ہے لیکن جن کا پیارا پچھلے 5یا 10 سال سے لاپتہ ہواور اسی کی زندگی اور موت کی کوئی خبر نا ہوتو گھروالوں پر کیا گذرتی ہے اس کا اندازہ عمران خان ، عارف علوی ، شیخ رشید ،شاہ محمود یا کسی اور کو نہیں ہوسکتا۔
کیا وزیر اعظم عمران خان اور ریاست پاکستان کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کیلئے عام معافی اور شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگیاں متعصبانہ طرز عمل اور دوہرامعیار نہیں ہے ؟؟؟ کیا عراق وشام سے جہاد کے بعدواپس آنے والےشیعہ نوجوان ریاست پاکستان کیلئے احسان اللہ احسان ، حکیم اللہ محسود اور نورولی سے بھی بڑا خطرہ ہیں؟؟
یہ بھی پڑھیں: عراقی فوج کی بڑی کارروائی، داعش کے 8 تکفیری دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا
عمران خان صاحب نے کہا کہ میں عسکری نہیں بلکہ مزاکراتی حل پر یقین رکھتا ہوں اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ شیعہ قوم کو مشورہ دے رہیں کہ آپ بھی اپنے حقوق کے حصول کیلئے مسلح جدوجہد کا آغاز کریں تو آپ کے ساتھ مزاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ کر مطالبات تسلیم کیئے جائیں گے اور آپ کے تمام کردہ نا کردہ گناہ معاف کرکے حب الوطنی کا سارٹیفکیٹ تھما دیا جائے گا، کیوں کہ آپ کے فلسفے کے مطابق یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے ۔
یاد رہے کہ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی چند روز پہلے ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی طالبان اگر اپنے نظریات چھوڑ کر پاکستان کے آئین اور قانون کے ساتھ چلنا چاہیں تو حکومت ان کے لیے معافی کا اعلان کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری بھی عمران حکومت کے زائرین دشمن اقدامات پر نالاں
اسی طرح کا ایک اور بیان پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیا جب انھوں نے حال ہی میں برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت ان کو معافی دے سکتی ہے۔کچھ اسی طرح کاموقف چند روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان کے جواب میں ترجمان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ ‘معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔‘اس بات اس بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مزاکرات کسی کی مجبوری ہیں اور کس کی نہیں؟؟







