چہلم امام حسینؑ پر پیادہ روی کے جرم میں 11 عزاداروں پر مقدمہ ، 5 مقامات پر بیک وقت احتجاجی مظاہرے
شیعیت نیوز: چہلم امام حسینؑ کے موقع پر مشی جلوس نکالنے پر 11 عزاداروں پر ایف آئی آر کے خلاف آج بعد نماز جمعہ ضلع ٹنڈومحمد خان کے 5 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔
ٹنڈو محمد خان سٹی میں پریس کلب تک مولانا امیر حسین رحمانی، مولانا کاظم علی مطہری کی قیادت میں ایف آئی آر کے خلاف پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
دوسری جانب شاہ کریم میں مولاناگل حسن مشہدی اور سید مشتاق شاہ کی قیادت میں احتجاجی مظاہر کیا گیا۔
مویا شہر میں بھی مولانامنظور علی، قربان شاہ، ظہیر عباس، ظہور احمد کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی ریاست مدینہ میں زائرین نواسہ رسول ؐ جبری طور پر محصور
ستری موری پر ممتاز علی اور مولانا فدا حسین ، شیر محمد رند میں بھی رئیس حاجن رند، علی محمد شاہ میں سید ایاز شاہ کی قیادت میں ایف آئی آر کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
پریس کلب ٹنڈو محمد خان پر مولانا امیر حسین رحمانی، مولانا کاظم علی مطہری نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان کے اندر تمام طبقات کو اپنی عبادات اور عقیدت کے اظہار کی آزادی ہے۔ پھر امام حسینؑ ے جلوس اور اس کی یاد میں پیدل چلنے پر آخر ایف آئی کیوں؟ جب کہ آئے دن کتنی ریلیاں، کئی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ کئی ناچ گانے کے محافل ہوتی ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں،انتظامیہ کو صرف امام حسینؑ کے جلوس سے مسئلہ کیوں ہے؟
یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ دہشتگرداورنگزیب فاروقی کا پابندی کے باجود شیعہ مخالف جلسے کا اعلان، ریاست خاموش
ایف آئی آر میں ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جو ہر سطح پر ملت کی نمائندگی کرتے ہیں، جو پیس کمیٹی کے ممبر ہیں،جن کو میٹنگز میں مدعو کیا جاتا ہے۔ پھر آخر ان کا جرم کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو وطن اسلام کے نام بنا ہے اب اس میں امام حسینؑ سے محبت و عقیدت کا اظہار جرم بن گیا ہے۔ یہ حکمران، انتظامیہ ملک کو کس طرف لےجا رہے ہیں۔ یہ ملکی مفاد کے حق میں نہیں اور آئین پاکستان سے متصادم ہے۔
ریلی کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اگر 5 اکتوبر تک ایف آئی آر ختم نہ ہوئی تو 6 اکتوبر کو احتجاجی دھرنے کی کال دیتے ہیں۔







