اپنے ہی دوست کے ہاتھوں غیرت کےنام پرقتل ہونے والےتکفیری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بلال خان کےقتل میں جبری لاپتہ شیعہ جوان کو ملوث قراردےدیا گیا
شیعیت نیوز:ریاستی اداروں کا متعصبانہ رویہ،سوادو برس قبل اپنے ہی دوست کےہاتھوں غیرت کےنام پرقتل ہونے والےوہابی تکفیری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بلال خان کےقتل میں جبری لاپتہ شیعہ عزادار سید عابد علی شاہ کو ملوث قراردےدیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی اسلام آباد نے گلگت بلتستان کے علاقہ ضلع دیامر کے گاؤں تھک نیاٹ ویلی سے تعلق رکھنے والے ملک دشمن دہشت گرد تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ کے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ اور بلاگر 22 سالہ بلال خان کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو واقعہ کے 27 ماہ بعد پارہ چنار سے گرفتارکرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقتول بلاگر وسوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو 16جون2019کوسیکٹر جی 9/4 اسلام آباد تھانہ کراچی کمپنی کے جنگل ایریا میں خنجر کے پے درپے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔۔ مقتول کے جسم کے مختلف حصوں بازو، سینے، کمر پر خنجر کے 17 زخم آئے تھے۔واقعہ میں مقتول کا کزن احتشام بھی شدید زخمی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وحدت کی خاطر اور قوم و ملت کی عزت کی خاطر ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس
واقعہ میں مقتول کا کزن احتشام الحق ولد قاری گلزار بھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔مقتول بلاگرانٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ فکیلٹی کا طالبعلم تھااور کالعدم سپاہ صحابہ کے زیر اہتمام چلنے والےشیعہ مخالف سوشل میڈیا ٹرینڈز میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتا تھا۔ تھانہ کراچی کمپنی پولیس نے اس واقعہ پر قتل عمد، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے کے تحت مقدمہ نمبر 220/2019 مقتول کے والد عبداللہ کی مدعیت میں درج کیاتھا۔
وقوعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے اسلام آباد سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ تفتیش ٹیم نے سی ٹی ڈی پنجاب کی مدد سے سید عابد علی شاہ سکنہ گاؤں نورکوپارہ چنار تحصیل اپر ضلع کرم ایجنسی سے گرفتار کرکے بلال خان کے قتل کا الزام عائد کردیا ہے۔
واضح رہے کہ بلال خان کے قتل اور عابد علی شاہ کی ظاہری گرفتاری کے درمیان 27 ماہ کے عرصے کا وقفہ ہے، جبکہ سیدعابدعلی شاہ جسے بلال خان کا قاتل قرا دیا جارہا ہے اسے تو 2 ماہ قبل 25جولائی 2021 کواسلام آباد سےریاستی اداروں نے اس وقت جبری طورپر لاپتہ کیا تھا جب وہ اپنی بیمار ننھی بھتیجی کو علاج کی غرض سے پاراچنار سے اسلام آباد کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کروانے آیا تھا۔ اغواء کاروں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا تھا کہ عابد علی شاہ کو ساتھ لےجانے کے بعد اس کی معصوم بھتیجی کا کیا ہوگاجو اسپتال کے بستر پر تنہا اپنے چچا کی راہ تکتی رہی ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعاً عابد علی شاہ بلال خان کے قتل میں ملوث ہے تو تفتیشی اداروں کو اقبال جرم کروانے میں 2 ماہ سے زائد کا عرصہ کیوں لگا؟ جبکہ یہ بات بھی آن ریکارڈ ہے کہ عابد علی شاہ کی جبری گمشدگی کے اگلے ہی روز پاراچنار میں سول سوسائٹی نے اس کے حق میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ بلال خان کے قتل کے بعد اس کے کزن احتشام الحق جو کہ اس حملے میں خود بھی زخمی ہوا تھا نے ابتدائی تفتیش کےدوران پولیس کو بیان دیا تھا کہ ہم بلال کے دوست عثمان کے فون پر جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔جبکہ خو د مقتول بلال خان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھائی کمیل معاویہ کا انٹرویو اب بھی اس کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود ہے جس میں اس نے خود کہا ہے کہ بلال کو اس کے دوست عثمان نے فون کر کے بلایا تھا۔
بلال کے بھائی کا آفیشل چینل اور اس پر اس کا بیان درج ذیل لنک پر ملاحظہ کریں
واضح رہے کہ بلال خان کے قتل میں ملوث قرار دیئے گئے عابد علی شاہ کی گرفتاری کا ذکر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی اپنی پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ بلال خان کا قتل مذہبی بنیاد پر کیا گیا۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ظاہر کی گئی ہے کہ جب شیعہ مکتب فکر کے خلاف ایک جانب تکفیری وناصبی شرپسند عناصر کمر بستہ ہیں اور دوسری جانب ریاستی ادارے عزاداری نواسہ رسولؐ کے خلاف جھوٹے اور غیر آئینی مقدمات کے اندراج میں مصروف ہیں ۔ ہمارے اداروں کا متعصبانہ رویہ کچھ بھی ہو لیکن جو حقیقت ہے اسے کوئی نہیں بدل سکتا اور حقیقت یہ ہے کہ بلال خان اپنے دوست عثمان کی بہن بی بی شیریں کے عشق میں گرفتارتھا اور باربار رشتہ بھیجنے کے باوجود لڑکی کے اہل خانہ کے مسلسل انکار کے سبب لڑکی کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھااس صورت حال سے تنگ آکر عثمان نے بلال خان کو رات کی تاریکی میں ملنے بلایا اور تیز دار آلےکے پہ در پہ وار کرکے قتل کردیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جھوٹ بولتے وقت اس بات کا توخیال رکھنا چاہیےتھا کہ ایک وہابی العقیدہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جس کے سوشل میڈیا اکاونٹس شیعہ مخالف پوسٹوں سے بھرے پڑے ہیں وہ کسی ایک پاراچناری شیعہ جوان عابد علی شاہ جسے وہ جانتا بھی نہ ہوکی فون کال یا اس کی دعوت پر اسلام آباد کے جنگل بیابان میں آخر کیوں گیا؟؟؟ کیا بلال خان کے فون پر آخری کال عابد علی شاہ نے کی تھی؟؟ اگر آخری کال عابد علی شاہ نے کی تھی تو پھر بلال خان کے زخمی کزن سے پوچھا جائے کہ اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران بلال کے دوست عثمان کا نام کیوں لیا تھا؟؟؟







