افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت ہی مستحکم ہوسکتی ہے، حامد کرزئی
شیعیت نیوز: افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ملک میں وسیع البنیاد حکومت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
افغان آوا پریس کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر حامد کرزئی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک وسیع البنیاد حکومت ہی ملک میں امن و استحکام کی ضامن ہوسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ طالبان نے جو عبوری حکومت تشکیل دی ہے ، اس کے بارے میں بھی توقع تھی کہ وسیع البنیاد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی کوشش کی جارہی ہے کہ وسیع البنیاد حکومت تشکیل پائے۔
سابق صدر حامد کرزئی نے کہا کہ عبوری حکومت کے اعلان کے بعد انھوں نے طالبان رہنماؤں سے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہورہی ہے کہ حکومت وسیع البنیاد ہو۔
سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ جلد سے جلد وسیع البنیاد حکومت بنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام، حکومت میں اپنی شمولیت کو جتنا زیادہ محسوس کریں گے حکومت اتنی ہی مستحکم اور ملک میں ثبات و استحکام قائم کرنے پر قادر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : چین کا تائیوان کے تعلق سے امریکہ کو سخت انتباہ
یاد رہے کہ طالبان نے سات ستمبر کو محمد حسن آخوند کی قیادت میں عبوری حکومت کا اعلان کردیا ہے جس کے سبھی اراکین طالبان گروہ سے ہی لئے گئے ہیں جس کی عالمی سطح پر مخالفت کی گئی ہے اور اب تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے ملک بھر میں عورتوں اور مردوں کے ایک ساتھ کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
طالبان قیادت کے قریبی سمجھے جانے والے ایک رہنما وحید اللہ ہاشمی نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے باجود طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کےسلسلے میں اسلامی شرعی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ خواتین دفاتر، بینکوں اور میڈیا و غیرہ میں کام نہیں کرسکیں گے۔
وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ ہم نے چالیس سال تک افغانستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے جنگ کی ہے اور شریعت عورتوں اور مردوں کو ایک ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
انہوں نے کہا کہ عورتیں میڈیکل اور تعلیم جیسے شعبوں میں کام کرسکیں گی کیونکہ ان شعبوں میں ان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، اسکولوں، مکتب خانوں اور یونیورسٹیوں میں خواتین اور مردوں کے شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے گا۔







