شیعہ اذان اور کلمہ میں علیاً ولی اللہ اورخلیفتہ بلافصل کہنے پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے کو منہ کی کھانی پڑگئی

09 ستمبر, 2021 10:47

شیعیت نیوز: وطن عزیز میں سعودی نواز تکفیری وناصبی عناصر کی جانب سے شیعہ مکتب فکر کی اذان و کلمے کے خلاف جاری مہم جوئی کا کسی بھی صورت کوئی قانون وآئینی جواز موجود نہیں، پاکستان کا آئین تمام مذاہب کو اپنے عقائد کے کھلے اظہار اور مذہبی رسومات کی انجام دہی کی اجازت دیتا ہے جبکہ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ شیعہ اذان اور کلمے میں علی ولی اللہ اور خلیفتہ بلافصل کی گواہی پاکستانی عدالت میں ثابت شدہ اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے۔

شیعہ اذان اور کلمے میں علی ولی اللہ اور خلیفتہ بلا فصل :

1973 میں احمدیوں ( قادیانیوں ) کو غیر مسلم قرار دینے کی تحریک چلی گھیراؤ جلاؤ اور اموات ہوئیں ۔ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو نے اپنی حکومت بچانے کےلئے تحریک کے سرکردہ علماء کرام کو اعتماد میں لیا اور ان کے اس مطالبے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ پارلیمنٹ نے بحث و تمحیص کے بعدکیس سپریم کورٹ کو ریفر کر دیا۔

سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سنے۔ سپریم کورٹ میں تحریک کی طرف سے۱۔مولانا مفتی محمود دیوبند بحیثیت وزیر اعلی صوبہ سر حد، ۲۔مولانا عبدالوہاب رو پڑی اہل حدیث، ۳۔مولانا محمد عمر اچھروی بریلوی، ۴۔ مولانا شاہ احمد نورانی بریلوی، ۵۔مولانا عبد الستار نیازی بریلوی پیش ہوتے تھے دلائل دیتے تھے۔شیعہ من حیث القوم اس تحریک سے لاتعلق تھے ۔ سپریم کورٹ احمدیوں کے مقابلے پر مذکورہ علماء کرام کے دلائل و براہین سے مطمئن نہ ہو پائی تو کورٹ نے فیصلہ کن دلائل کےلئے کسی کو پیش کرنے کی آخری ایک دن وکی مہلت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت کا ایک اور شرمناک اقدام ، علامہ شہنشاہ حسین نقوی پر مزید پابندیاں عائد

ایسے میں مفتی محمود دیوبندکے مشورے پر رات بھر میں شیعہ عالم دین مولانا محمد اسماعیل دیوبندؒ (مناظر ) کو فیصل آباد سے اور خطیب اہل بیت مولانا سید اظہر حسن زیدی کو لاہور سے اسلام آباد طلب کیا گیا۔ان شیعہ علماء کرام نے سپریم کورٹ میں قادیانی علما کو قرآنی آیات کے ذریعے بے بس کیا اور سپریم کورٹ کو سورہ نسا کی آیت 59 ( یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ۔۔۔) کو ثابت کیا کہ اس سے مراد حاکم وقت نہیں کیونکہ وہ غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے بلکہ اس سے مراد ختم نبوت اور امامت کا آغاز ہے جو دین کا بھی حاکم ہے اور مسلمانوں کا بھی۔

سپریم کورٹ نے اس استدلال کو قبول کیا مزید ان علماء کرام نے عدالت سے تسلیم کرایا کہ ہمارا کلمہ اور اذان میں علی ولی اللہ کا کہنا اعلان ہے کہ محمدﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں ۔یوں کورٹ نے قادیانی مذہب کو غیر مسلم اقلیتی مذہب قرار دیا نہ کہ مسلم مسلک ۔۔۔۔۔۔نیز شیعوں کےکلمہ پڑھنے اوراذان دینے کو جائز قرار دیا اور مسلم مسلک تسلیم کیا ۔

اس فیصلے کو تحریک کے مذکورہ علماء اہل سنت و دیوبند نے نہ صرف خوشدلی سے قبول کیا بلکہ سپریم کورٹ میں مدد و تعاون پر اظہار تشکر و قابل ستائش قرار دیا۔

لہٰذا اب شیعہ اذان اور کلمے میں علی ولی اللہ اور خلیفتہ بلا فصل کی گواہی کے خلاف بولنے والے ناصبی جہاں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے والے مذہب تشیع اور ان ان کے عقائد کی توہین کر رہے ہیں وہیں پاکستانی عدالت سے تسلیم شدہ شیعہ اذان اور کلمے پر اعتراضات اٹھا کر توہین عدالت اور قانون شکنی کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔

3:05 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔