کرم ایجنسی میں ہونیوالے تازہ کشت و خون کا ذمہ دار کون ہے ؟؟ علامہ عابد حسین الحسینی نےبتا دیا
شیعیت نیوز: تحریک حسینی پاراچنار کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید عابد حسین الحسینی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کرم میں ہونیوالے تازہ کشت و خون کی اصل ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، یہ کوئی انوکھا واقع نہیں۔ کرم بلکہ قبائل میں ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ کرم میں شیعوں اور اہل سنت کے مابین مسائل مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ زمینوں اور دیگر سوشل معاملات کے بنا پر ہیں۔ جو نہ فقط سنی شیعہ کے مابین بلکہ خود شیعوں کے مابین اور سنیوں کے مابین بھی ہوا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی ،ملزم مفتی شاہ نواز سے متعلق عدالت کا اہم حکم سامنے آگیا
چنانچہ اس سے پہلے شیعہ قبائل حمزہ خیل مستو خیل، بدامہ کے بڈیخیل اور مانہ سادات نیز سنی قبائل میں سے منگل اور مقبل، علی شیر زئی اور ماسوزئی۔ ماسوزئی اور پاڑہ چمکنی وغیرہ کے مابین بھی سالوں سے تنازعات چلے آرہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی عدم دلچسپی ہے، بلکہ یوں سمجھئے کہ حکومت چاہتی ہی یہی ہے کہ قبائل آپس میں ٹکرا کر ایک دوسرے کو ختم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے مولوی عبد العزیز داعشی کےخلاف بڑا مطالبہ کردیا
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ سالوں سے ہم یہی واویلا کر رہے ہیں کہ کرم میں جائیداد کے تمام تنازعات کا حل حکومت کے پاس موجود ہے۔ اگر وہ سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں فوری اقدام کرے تو کوئی مسئلہ مسئلہ ہی نہیں رہیگا۔ مگر حالت یہ ہے کہ انتظامیہ جان بوجھ کر آنکھیں چراتی ہے۔ معاملات میں اس وقت تک مداخلت نہیں کرتی، جب تک وہ اپنا معاملہ خود طے نہیں کرتے، جبکہ انکا فیصلہ تو جذبات اور عصبیت پر مبنی ہوتا ہے، جو کہ خطرناک ہوتا ہے۔







