انقلاب اسلامی ایران نے امام خمینی ؒ کے حکم پر فلسطینیوں کی جس مددکاآغاز کیاوہ آج تک جاری ہے، علامہ محمد حسین اکبر

12 مئی, 2021 11:41

شیعیت نیوز: ادارہ منہاج الحسینؑ لاہور کے سرپرست اعلیٰ و تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا ہے کہ بیت المقدس کا مقام و رتبہ مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہ پورا علاقہ فلسطینی مسلمانوں کا وطن تھا اور ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔ لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ستر سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے کہ یہودیوں نے مختلف اسلام دشمن ممالک کیساتھ مل کر فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن اور سرزمین سے بے دخل کرکے اس پر قبضہ کرکے اس جگہ پر اسرائیل کے نام سے ایک یہودی حکومت قائم کی اور دعویدار ہوئے کہ یہاں پر دین یہودیت کے مذہبی مقامات درحقیقت یہودیوں کی ملکیت ہونے کے ثبوت ہیں اور اس طرح اسرائیل، امریکہ اور دوسری اسلام دشمن طاقتوں کی پشت پناہی سے اس سرزمین قدس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور سالہا سال سے بیگناہ اور مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کرکے ان کو بے وطن اور بے گھر کررکھا ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کلمہ اور اسلام کے نام پر دنیا کے نقشہ پر قائم ہوا، تاکہ قرآن و سنت کی حاکمیت کے سائے میں مسلمان اور اس ملک کے باشندے زندگی بسر کریں تو قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ بانی پاکستان نے سرزمین فلسطین اور فلسطینیوں کے بارے میں اپنے تاریخی اور ناقابل تبدیل فیصلہ کا پالیسی بیان دیا تھا کہ فلسطین اور قدس فلسطینیوں کا ہے اور ہم فلسطینیوں کی حمایت اور قبلہ اول کی آزادی تک اسرائیل کیخلاف ہیں اور رہیں گے اور کسی بھی صورت میں اس کے غاصبانہ اور ناجائز وجود کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج تک اپنے قائد کے اس موقف پر قائم ہے، لیکن اس کے برعکس بعض ہمسایہ ممالک نے فلسطینیوں اور آزادی قبلہ اول کے مقدس ترین کاز کیساتھ غداری کی اور ان کا ساتھ چھوڑ دیا، جس کے نتیجہ میں اسرائیل مضبوط ہوتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایس او پاکستان نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کےخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

انہوں نے کہا کہ فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی جمہوری انقلاب امام خمینیؒ کی قیادت اور رہبری میں اس صدی کے عظیم انقلاب کے طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوا تو رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ خمینی ؒ نے اسرائیل کے ناپاک وجود کو ایک کینسر کے پھوڑے سے تعبیر کیا، جو امت اسلامیہ کے درمیان امریکہ اور اس کی اسلام دشمن اتحادی طاقتوں کی بھرپور امداد سے وجود میں آیا تھا۔ علامہ اکبر کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی حمایت اور قبلہ اول کی آزادی کا نہ صرف نعرہ بلند کیا بلکہ ان کی ہر طرح سے مدد شروع کی، جو اب تک جاری ہے۔ اگست 1979ء ماہ رمضان کے آخری جمعہ، جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا، امت مسلمہ کے تمام مسلمان ممالک کے سربراہوں اور عوام کو فلسطینیوں کی حمایت اور قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کیلئے اس دن کو عالمی یوم القدس کے طورپر منانے کا مطالبہ کیا اور اس دن سے لے کر آج تک ہر ماہ رمضان کا آخر ی جمعہ عالمی یوم القدس کے طورپر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکلتی ہیں، اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم اور غاصبانہ قبضہ کو اجاگر کیا جاتا ہے، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں فلسطینیوں کے آزاد وطن اور بیت المقدس کی قراردادیں پیش کی جاتی ہیں۔

علامہ محمد حسین اکبر نے مزید کہا کہ اس سال مشرق وسطیٰ اسرائیل کے جارحانہ اقدام کی وجہ سے ایک نیا نقشہ پیش کر رہا ہے، کئی عرب ملک اس کے نجس وجود کو تسلیم کرچکے ہیں، جس وجہ سے اس کا اور حوصلہ بڑھا اور اس کے مظالم پہلے سے زیادہ بڑھ چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے مقابلہ میں ایران، فلسطین، شام، حزب اللہ لبنان کے مجاہدین ہر طرح کے حملے کرکے ان کو نیست و نابود کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور اس جنگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ایک طرف اسرائیل ایران کیخلاف اپنی تمام تر طاقت استعمال کر رہا ہے، امریکہ خاص طور پر اور اس کے عالمی ایٹمی دیگر ممالک بھی ایران کیخلاف مزید متحد ہو کر اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں، بلکہ ایران کیساتھ ساتھ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور اس مقصد کیلئے پورا یورپ اکٹھا ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رکن امریکن کانگریس نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو کھلی دہشت گردی قرار دےدیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قوانین کی دفعہ 295سی توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سزائے موت کے قانون کیخلاف بھاری اکثریت سے قرارداد پاس کرچکے ہیں کہ پاکستان اپنے توہین رسالت و اہلبیت و اصحاب و ازواح و مذہب کرنیوالوں کیخلاف قانون کو واپس لے، خاص طور پر سزائے موت کے قانون کو۔ لیکن آفرین وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جو نہ صرف یورپی ممالک کے اس ناجائز مطالبہ کیخلاف ڈٹ گیا بلکہ دوٹوک الفاظ میں اعلان کر دیا کہ ہم اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس قانون کو واپس لے سکتے ہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک کے سفیروں کو بلا کر ان کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا، تاکہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کے سربراہوں کو آگاہ کریں اور تمام اسلامی ممالک مل کر عالمی سطح پر رسول خاتم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن و انبیاء کی توہین کرنیوالوں کو عبرتناک سزا دلوانے کا قانون پاس کرائیں، عمران خان قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کا کہنا تھا کہ ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور عراق کے آپس میں تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوچکے ہیں، جو اسرائیل، امریکہ اور یورپی ممالک کو کسی طور پر بھی پسند نہیں، ان بہتر تعلقات کو قائم کرانے میں پاکستان کا بنیادی کردار ہے، جس وجہ سے اسرائیل، ہندوستان، امریکہ کو پاکستان کا وجود بھی برداشت نہیں ہو رہا، لہٰذا اس سال ماہ رمضان کے جمعۃ الوداع کو عالمی یوم آزادی قدس اور فلسطینیوں کی حمایت، اسرائیل کی نابودی کی خاطر پہلے سے بھی کہیں زیادہ جوش و جذبہ اور بھرپور طریقہ سے منانے کی ضرورت ہے، تاکہ اسرائیل کی صیہونی حکومت کے تمام تر منصوبوں کو خاک میں ملا کر قبلہ اول کو آزاد کرایا جائے۔ تمام تر اسلامی ممالک کے سربراہوں کو ملکر اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلا کر اقوام متحدہ سے توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیخلاف قرار داد پاس کرا کر قانون سازی کرانی چاہیئے۔

2:46 صبح اپریل 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔