محبِ ولاء شہید امجد صابری قوال کو بچھڑے 5 برس بیت گئے، خون ناحق کا انصاف نہ ہوسکا

29 اپریل, 2021 09:59

شیعت نیوز: شہر قائد کے علاقے لیاقت آباد میں تکفیری وہابی دہشت گردوں کی ٹارگٹ کلنگ کے شکار مشہور و معروف ثناءخوان اہل بیتؑ اور قوال امجد صابری شہید کو ہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے۔ تفصیلات کے مطابق شہید امجد صابری کو 22 جون 2016ء بمطابق 16 رمضان المبارک کو موٹر سائیکل سوارسعودی نواز تکفیری دہشت گردوں نے اس وقت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تھا، جب وہ اپنی رہائش گاہ لیاقت آباد سے نکل کر ایک نجی ٹی وی چینل میں رمضان نشریات میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔

امجد صابری سفید رنگ کی سوک میں سوار تھے اور خود گاڑی چلا رہے تھے، وہ جیسے ہی اپنے والد کے نام سے منسوب غلام فرید صابری انڈر پاس سے ملحقہ الاعظم اسکوائر کے سامنے سے گزر رہے تھے، تو موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے انہیں سرراہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: شام وعراق میں حرم ِ اہل بیت ؑ کا دفاع جرم ،افغانستان جاکر لڑنا جائز، پاکستان کی اہم مذہبی جماعت کا رہنما افغانستان میں ہلاک

23 دسمبر 1976ء کو کراچی کے معروف قوال گھرانے میں آنکھ کھولنے والے امجد صابری کو قوالی کا ذوق و شوق ورثے میں ملا، قوالی کی ابتدائی تربیت والد غلام فرید صابری اور بڑے بھائی عظمت صابری سے لی، فنی تعلیم و تربیت کے بعد امجد صابری نے قوالی اور ثناءخوانی اہل بیتؑ کے شعبے میں اس انداز سے اپنی صلاحیتوں کو منوایا کہ جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

امجد صابری نے بھارت، نیپال، امریکا اور لندن سمیت 17 سے زائد ممالک میں پرفارمنس دی، اپنے والد غلام فرید صابری کے انتقال کے بعد امجد صابری ایک نئے روپ میں ابھر کر آئے، امجد صابری نے اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کی مشہور قوالیوں ’’تاجدار حرم‘‘ اور ’’بھر دو جھولی میری‘‘ پڑھ کر شہرت حاصل کی۔

شہید امجد صابری سید الشہداء امام حسینؑ کے ساتھ اپنی دلی وابستی کا اظہار یہ کلام پڑھ کر کیا کرتے تھے کہ ارے اودشمن عزا تو مرذرا لحد میں جا ۔۔۔۔پتہ چلےگا کیا حسینؑ ہے ۔

1:50 شام مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔