مسجد وامام بارگاہ پرحملے کیخلاف احتجاج جرم بن گیا، صدائے مظلومین پاراچنار کے رہنماؤں پر مقدمہ درج
شیعت نیوز: شورکی مسجد وامام بارگاہ لوئر کرم پر تکفیری وہابی دہشت گردوں کے حملے کے خلاف احتجاج جرم بن گیا ۔ صدائے مظلومین پاراچنار کے رہنماؤں پر مقدمہ درج کرلیاگیا۔ مولانا مزمل حسین، شبیر ساجدی، شفیق طوری، حشمت طوری اور مجاہد طوری کوایف آئی آر میں نامزد ۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل پاک افغان سرحدی علاقے لوئر کرم شورکی مسجد وامام بارگاہ پر اسلام دشمن عالمی دہشت گرد جماعت داعش کے کارندوں کے حملے اور موذن کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے پر صدائے مظلومین کے5رہنماؤں پر بے بنیاد مقدمہ درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ علماءکونسل کا گستاخِ حضرت ابوطالبؑ مولوی خلیل الرحمٰن کیخلاف توہین رسالتؐ کامقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
شیعت نیوز کے ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں مولانا مزمل حسین، شبیر ساجدی، شفیق طوری، حشمت طوری اور مجاہد طوری کونامزد کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ جہانزیب جعفری نے مقامی انتظامیہ کے اس متعصبانہ اقدام کی پرزور مذمت کی ہے ۔
علامہ جہانزیب جعفری نے صدائے مظلومین پاراچنار کے رہنماؤں پر ایف آئی ار کے اندراج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں مقدمات قائم کرنا آمرانہ طرز عمل ہے۔ایک جمہوری معاشرہ ایسے کسی اقدام کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا صارفین کا نام نہاد مذہبی ٹھیکیدار عامر لیاقت پہ پابندی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ ظلم وجبر کے حربوں سے حق سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پارا چنار انتظامیہ کی غفلت کے باعث شورکی مسجد و امام بارگاہ کی تباہی کا المناک سانحہ رونما ہوا۔اپنی ناہلی چھپانے کے لیے ملت تشیع کو نشانہ بنایا جانا اپنےاختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔
انہوں نے صدائے مظلومین پاراچنار کے رہنماؤں مولانا مزمل حسین، شبیر ساجدی، شفیق طوری، حشمت طوری اور مجاہد طوری کوایف آئی آر میں نامزد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم خاموش نہیں رہیں گے۔اگر ہمارا مطالبہ نہ مانا گیا تو ذمہ دارن کے خلاف ہر طرح کی قانونی و آئینی چارہ جوئی کی جائے گی۔







