یہی وقت ہے ہندوستان کے مسلمان راہ آزادی چن لیں، علامہ سید جوادنقوی
شیعت نیوز: جن مسلمان رہنماؤں نے تحریکِ پاکستان چلائی تھی اور پاکستان بنایا تھا، اُس وقت انڈیا میں بعض مسلمان رہنماؤں نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی، لیکن اب انڈیا کے مسلمانوں کیلئے بہت ہی حساس وقت آن پہنچا ہے اور یہ پہلے سے ہی متوقع تھا، ہندوستان کے مسلمان راہ آزادی چن لیں ۔ان خیالات کا اظہار تحریک بیداری اُمت مصطفیٰ کے سربراہ اور مہتمم جامعہ عروۃ الوثقیٰ علامہ سید جواد نقوی نے بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ حالت کے حوالے سے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں پرمظالم، ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی مودی سرکار پر تنقید، بھارتی حکومت سیخ پا
انہوں نے کہا کہ جن مسلمان رہنماؤں نے راہ آزادی پاکستان بنایا اور قیامِ پاکستان کی تحریک چلائی، انہوں نے اِسی دن کے خوف سے مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت بنائی تھی کہ جس میں اِن کی جان و مال محفوظ ہو اور متعصب اکثریت کے سامنے مسلمان بے عزت نہ ہوں، قتل و غارت نہ ہو۔ پاکستان کی مخالفت کرنیوالوں کو اب انڈیا میں رہنا مہنگا پڑ رہا ہے۔علامہ جواد نقوی نے کہا کہ افسوس کہ اُس وقت قیام پاکستان کے دوران بھی ہندوستان کے اندر چند مسلمانوں رہنماؤں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور یہ فیصلہ قبول نہیں کیا، پاکستان کو نہیں مانا بلکہ ہندوستان میں رہنے کو ہی ترجیح دی تھی تبھی سے یہ اندام کھل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی نے اپنے آپ کو وقت کا فرعون اور یزید ثابت کردیا ہے،علامہ یوسف حسین جعفری
انہوں نے کہا کہ اسی وقت تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کو یہ توقع تھی کہ ان کے اوپر بھی ایک دن ایسا ہو گا اب وہ قائدین کہہ رہے ہیں کہ اس وقت جو پیش گوئیاں کی گئیں وہ درست ثابت ہو رہی ہیں، اب اِس وقت بھارت میں یہ معاملہ قابو سے باہر چلا گیا ہے، کیونکہ دنیا کی طرف سے اور کسی اسلامی ملک کی طرف سے کوئی پریشر نہیں ہے، پہلے "برما” میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ وہ ایک ٹیسٹ طور پر تھا کہ مسلمانوں میں سے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کوئی اُٹھتا ہے؟ کسی نے کوئی آواز نہیں اُٹھائی، صرف پریس بیانات اور این جی اوز کی حد تک معاملہ رہا۔ اُسی برما حکومت کیساتھ تمام مسلمان ممالک کے روابط قائم ہیں، کسی نے برما کا سفیر نہیں نکالا، کسی نے تعلقات نہیں توڑے، کسی نے تجارت ختم نہیں کی، یہ ٹیسٹ تھا اور وہاں مسلمانوں کی یہ نبض تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی عوام کا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف تہران میں بھارتی سفارتخانے پر احتجاج
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اُس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ برما میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل نہیں، اصل ہندوستان میں ہونا ہے، اصل سنیریو انڈیا میں ہے جو کہ شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا کے اندر رہنے والے مسلمانوں نے اگر اُس وقت ستر سال پہلے ایک غلطی کی، ستر سال پہلے قبول نہیں کیا تھا تو آج کے حالات اور اِن ستر سالوں میں جو کچھ ہوا ہے، اِس کی بنیاد پر اب اِن کے اندر سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جیسا مناسب سمجھیں لیکن ہندو اکثریت کیساتھ جڑ کر رہنے میں مستقبل میں مزید کتنا نقصان ہونے کا خطرہ ہے، شائد اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اب یہی وقت ہے مسلمان لیڈر شپ، مسلمان عوام اور ہر طبقے و ہر فرقے کیلئے کہ اب راہ آزادی چن لیں اور یہ راستہ ایسے حالات میں بھارتی مسلمانوں کیلئے اِس وقت کربلا کا سماں بندھا ہے۔







