اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری، 2 فلسطینی شہید

01 جون, 2019 01:56

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک )اسرائیلی پولیس نے مغربی کنارے پر باڑ کے قریب 16 سالہ جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں 21 سالہ فلسطینی کو گولی مار کر جاں بحق کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے آخری جمعے، جمعۃ الوداع کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں ہزاروں مسلمان نماز پڑھنے پہنچے۔

فلسطینی وزارت کے مطابق اسرائیلی پولیس نے 16 سالہ عبداللہ غیث کو مغربی کنارے کے قریب بیت لحم شہر میں گولی ماری جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں 21 سالہ فلسطینی نوجوان کے میدے پر گولی مار کر زخمی کیا گیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ فلسطینی بچہ بیت لحم سے یروشلم میں داخل ہونے کے لیے باڑ کو پھلانگنے کی کوشش کر رہا تھا جہاں اسے روکنے کے لیے گولی ماری گئی۔

بچے کے والد لوائی غیث کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا الاقصیٰ مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے یروشلم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔بچے کی لاش کو بیت لحم ہسپتال لایا گیا جہاں اس کے اہلخانہ نے اس کی شناخت کی۔بچے کے والد کا کہنا تھا کہ ‘وہ اپنے مذہبی فریضے کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا تھا، انہوں نے اس کے دل پر گولی ماری جیسے کوئی کھیل ہو، 16 سال میں نے اسے پال کر بڑا کیا تھا’۔

فلسطینی شہریوں کے امور کی ذمہ دار اسرائیلی دفاعی ادارے سی او جی اے ٹی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مغربی کنارے پر فلسطینی شہریوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندیوں میں نرمی کی ہے، اس موقع پر تمام عمر کی خواتین اور 40 سال سے زائد عمر کے مرد داخل ہوسکتے ہیں تاہم نوجوان فلسطینیوں کو فوج سے اجازت لینی ہوتی ہے جو بہت مشکل سے ملتی ہے۔ایک علیحدہ واقعے میں اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے 19 سالہ فلسطینی کو دمشق دروازے کے قریب 2 اسرائیلیوں پر چاقو مارنے پر گولی ماری۔

واضح رہے کہ دمشق دروازے کے قریب شہر کے حصے میں زیادہ تر فلسطینی آباد ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ ایک اسرائیلی کی حالت نازک ہے جبکہ دیگر کی حالت خطے کے باہر ہے۔پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو سیکیورٹی فورسز نے مسلمانوں کے علاقے میں بھاگتے ہوئے گولی ماری۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں جمعۃالوداع کے دن یوم القدس منایا گیا اور اس سلسلے میں ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔اسرائیل نے یروشلم پر 1967 میں مشرق وسطیٰ سے جنگ کے بعد قبضہ کیا تھا۔زیادہ تر بین الاقوامی برادری نے اسرائیل کے شہر کے مشرقی حصے پر قبضے کو تسلیم نہیں کیا ہے جس کے بارے میں فلسطین کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کی ریاست کا مستقبل میں دارالحکومت بنے گا۔واضح رہے کہ یروشلم مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا بڑا مذہبی مرکز ہے۔

5:13 شام اپریل 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔