داعش کی جہادی دلہنوں نے بنگلادیشی لڑکی کے سر کی قیمت مقرر کردی، کیوں؟ جاننے کے لئے پڑھیں

02 مارچ, 2019 00:00

شیعیت نیوز: بنگلہ دیشی نژاد برطانوی لڑکی شمیمہ بیگم 2014ءمیں فرار ہو کر شام چلی گئی اور دہشتگرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ داعش میں شامل ہونے کے بعد اس نے ایک دہشتگرد کے ساتھ شادی کر لی اور پھر اس کے ساتھ نباہ نہ ہونے پر طلاق لے کر دوسرے دہشتگرد کی جہادی دلہن بن گئی۔ جب داعش کو شکست ہوئی تو اس کے شوہر کو بھی سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے گرفتار کر لیا جس پر شمیمہ بھاگ کر ایک پناہ گزین کیمپ میں چلی گئی جہاں اس کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اب شمیمہ کو اس کیمپ سے بھی فرار ہونا پڑ گیا ہے کیونکہ داعش کےدہشتگردوں کی بیگمات نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر دی تھی۔

news.com.au کے مطابق داعش کے شدت پسندوں کی بیگمات کا کہنا ہے کہ شمیمہ بیگم نے اپنے بیانات کے ذریعے ان کے داعش میں شمولیت کے مقصد کی توہین کی ہے۔ چنانچہ اسے قتل کرنا واجب ہو چکا ہے۔ سر کی قیمت مقرر ہونے کے بعد شمیمہ بیگم کو پے درپے قتل کی دھمکیاں موصول ہونی شروع ہو گئیں جس پر وہ اپنے بیٹے کو لے کر شام کے شہر الحول میں واقع پناہ گزین کیمپ سے فرار ہو گئی۔ کئی دن لاپتہ رہنے کے بعد اب معلوم ہوا ہے کہ وہ چھپتے چھپاتے عراقی بارڈر کے ساتھ واقع الروج پناہ گزین کیمپ میں پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ”شمیمہ بیگم کو الحول کے پناہ گزین کیمپ میں موجود شدت پسندوں کی بیگمات نے براہ راست دھمکیاں دی تھیں اور اب وہ اس نئے پناہ گزین کیمپ میں انتہائی خوف کے عالم میں رہ رہی ہے۔ اس کو خطرہ ہے کہ یہاں بھی شدت پسندوں کی بیگمات موجود ہیں جو اسے قتل کر سکتی ہیں۔“

9:30 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top