گلگت بلتستان کے عوام کے زخم بہت گہرے ہیں انہیں مزید گہرا ہونے نہ دیا جائے، فرحت اللہ بابر

25 جون, 2018 11:10

شیعیت نیوز: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء و آصف علی زرداری کے خصوصی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ پچھلے 70سال کے دوران بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ ان کے ساتھ بڑی زیادتیاں ہوئی ہیں اور 70 سالوں سے یہاں کے عوم کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ متنازعہ حیثیت کے نام پر اس علاقے کی دولت پر اسلام آباد قبضہ کر رہا ہے۔ پیپلز سیکرٹریٹ اسکردو میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جی بی کے نوجوانوں کی آنکھوں میں بہت غصہ دیکھ رہا ہوں۔ پورے خطے کے عوام میں بڑا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کا ممکنہ ردعمل کسی بھی صورت میں ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس لئے فی الفور اس علاقے کے عوام کو ان کے تمام آئینی بنیادی حقوق دینے ہوں گے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے زخم بہت گہرے ہیں انہیں مزید گہرا ہونے نہ دیا جائے، جتنا زخم گہرا ہوگا اتنا ہی علاج میں مسئلہ پیش آئے گا۔ جی بی کا حصہ نہیں ہے اور یہاں کے غیور عوام کو پاکستانی تسلیم نہیں کئے جارہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم متاثر ہوئی ہے اس لئے کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ جب حقوق کی بات ہوتی ہے تو گلگت بلتستان متنازعہ ہوتا ہے مگر اس علاقے کے وسائل متنازعہ نہیں ہوتے ہیں۔ اسلام آباد والے یہاں کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جی بی کے عوام کو تمام قسم کے اختلافات سے بالاتر ہوکر آئینی حقوق کے معاملے پر ایک متفقہ بیانیہ بنانا ہوگا اور اس بیانیے کو آگے کرنا ہوگا۔ بیانیے کا پہلا جز یہ ہو کہ ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے لہٰذا دھوکہ مزید برداشت نہیں کریں گے۔ بیانیے کا دوسرا جز یہ ہو کہ ہم نہیں مانتے کہ ہمار علاقہ متنازعہ ہے، ہمیں وہ تمام آئینی حقوق دیئے جائیں جو ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں۔ جب تک آئینی حقوق نہیں ملیں گے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق لینے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ مارشل لاء کے دور میں میں جی بی کو زون (ای) قرار دیا گیا اور یہاں کے عوام پر کوڑے برسائے گئے۔ جب 21ویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں جی بی میں قائم کی جاسکتی ہیں اور مارشل لاء کو یہاں تک توسیع دیا جا سکتا ہے تو اٹھارویں ترمیم کے تحت چاروں صوبوں کے برابر آئینی حقوق گلگت بلتستان کو کیوں نہیں دئیے جاسکتے ہیں۔

2:35 صبح اپریل 18, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔