سعودی عرب اب خون کی ہولی کون سے ملک کے ساتھ کھیلے گا

30 نومبر, 2017 09:27

اسرائیلی اخبار ہاآرٹس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے شہ دے رہاہے اخبار کا مطابق ’’سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس گندے کھیل میں اسرائیل کو کھینچا جائے ‘‘۔

بات صرف اسرائیلی اخبار کی نہیں بلکہ گیارہ نومبرکے نیویارک ٹائمز کا بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لبنان پر حملہ کرے ۔
عرب زرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں موجود اسرائیلی سابق سفیر اور اسرائیلی نیشنل سیکوریٹی اسٹیڈیز انسیٹیوٹ کے ممبر ڈینیل شاپرو کا بھی کہنا ہے کہ ’’ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ایران اور حزب اللہ کے خلاف مشترکہ اہداف رکھتے ہیں، ،وشنگٹن پوسٹ کے مطابق لبنانی وزیر اعظم حریری کا سعودی عرب بلاکر استعفی دلانے کا مقصد بھی حزب اللہ کیخلاف جنگ کا ہی ایک حصہ ہے ۔
مشرق وسطی میں جاری بحران ہے کہ یک بعد دیگرمختلف شکل و صورت میں سامنے آرہا ہے گرچہ عراق و شام میں رسمی طور پر داعش کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اب داعشی چنگاریاں مختلف شکل و صورت میں سر اٹھانے کی کوشش ضرور کرینگی،لیکن یہ بات درست ہے کہ اب گرونڈ میں کوئی ایسا قابل ملاحضہ علاقہ نہیں بچا ہے کہ جہاں اس وحشی سامراجی تنظیم کا کنٹرول ہو۔
امید کی جاسکتی ہے کہ داعش کے خاتمے کے ساتھ کسی حدتک خطے کو فرقہ وارانہ جنگ میں جونکنے کی ایک بڑی سازش ناکام ہوجائے گی لیکن ابھی خطرات ضرورموجود ہیں خاص کر افغانستان میں بڑھتی ہوئی داعش کی تعداد اور ایکٹیویٹیز سے پاکستان سمیت چین ،روس اور ایران بھی بے چین ہیں ،کہا جارہا ہے کہ داعش کے بہت سے اہم سرغنے شام و عراق سے افغانستان کا رخ کرگئے ہیں ایسے میں داعش کے مشرق وسطی میں خاتمے کے بعد ساوتھ ایشیا کی جانب بڑی آسانی کے ساتھ رخ کرناانتہائی تشویش اور خطرناک امر جسے روکنے کے لئے خطے کے ممالک کو ابھی سے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے ۔
افغانستان پاکستان ازبکستان تاجکستان جیسے ممالک میں داعش سے ملتے جلتے نظریات رکھنے والے شدت پسند گروہوں کی موجود گی اس دہشتگرد تنظیم کو تیزی کے ساتھ جگہ بنانے میں مدد فراہم کرسکتی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انتہائی درمدہ صفت دہشتگرد گروہ کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے نہ دیا جائے اور خطے کے ممالک ملکر اس کا سد باب کریں۔
پاکستان کی فوج مسلسل دہشتگردوں کیخلاف مختلف نوعیت کے کامیاب آپریشن کررہی ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کیا جاچکا ہے لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں ہوگا کہ شدت پسندی کی سوچ اور شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے ۔

11:59 شام مارچ 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔