ولاد ت امام حسین (ع) پر رسول اللہ (ص) کا گریہ

29 اپریل, 2017 00:00

شیعیت نیوز: امام حسین (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد رسول خدا، علی اور فاطمہ زہرا (ع) جب بھی آپ کی مظلومیت اور آپ کے رنج وغم سے آگاہ ہوتے تھے تو آپ پرگریہ فرماتے تھے ۔

ایک روایت میں ہے : امام حسین کی ولادت کے بعد رسول خدا (ص)، جناب فاطمہ زہرا ؑ کے گھر تشریف لائے اور اسماء سے فرمایا: میرے بیٹے کو لاو! اسماء  نے امام حسین (ع) کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اسلام (ص) کی خدمت میں لاییں، رسول اکرم (ص)  نے امام حسین (ع) کے داہنے کان میں اذان اور باییں کان میں اقامت کہی، پھر آپ کو آغوش میں لے کر رونے لگے ۔

اسماء کہتی ہیں میں نے رسول اسلام سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں؟

فرمایا: اس بچے کی وجہ سے رو رہا ہوں ۔

میں  نے عرض کیا: یہ تو ابھی پیدا ہوا ہے (یعنی یہ خوشی کا مقام ہے رونے کامقام نہیں ہے ) ۔

فرمایا: "” تقتلہ الفیه الباغیه من بعدی، لا انا لھم اللہ شفاعتی”” ، اس کو میرے بعد ایک سمتگر گروہ شہید کرے گا جس کو ہرگز میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔

پھر فرمایا: "”یا اسماء لا تخبری فاطمه بھذا فانھا قریبه عھد بولادتہ "”، ایے اسمای، فاطمہ کو اس واقعہ کی خبر مت دینا، کیونکہ ان کے یہاں ابھی اس بچہ کی ولادت ہویی ہے (٥) ۔

ابن عباس کہتے ہیں: صفین جاتے ہویے میں امیرالمومنین کے ساتھ تھا جب ہم نینواپہنچے تو بلند آواز سے مجھ سے فرمایا: ایے ابن عباس! کیا تم اس جگہ کو پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں، میں نہیں پہچانتاہوں ۔

فرمایا: اس زمین کے بارے میں جس طرح میں جانتا ہوں اگر تم بھی اسی طرح واقف ہوتے تو میری طرح گریہ کرتے ۔

اس کے بعد بہت دیر تک امام آنسوں بہاتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوں آپ کے محاسن سے گذرتے ہویے آپ کے سینہ تک آگیے اور میں بھی روتا رہا، امام نے اسی حال میں فرمایا: وایے! وایے! ابوسفیان کی آل کو مجھ سے کیا مطلب؟ مجھے حرب (اجداد یزید)کی اولاد سے کیا مطلب؟یہ شیطان کی ایک حزب اور کفر کے اولیاء ہیں ۔ ایے ابوعبداللہ صبر کو اختیار کرو! کیونکہ تمہارے والد کو بھی اس گروہ سے وہی اذیت و پریشانی نصیب ہویی جو تم کو ہورہی ہے (اوہ اوہ مالی ولآل ابی سفیان؟ مالی ولآل حرب حزب الشیطان؟ و اولیاء الکفر؟ صبرا یا اباعبداللہ فقد لقی ابوک مثل الذی تلقی منھم) ۔

رسول خدا نے جب امام حسین کی شہادت اور آپ پر مصایب کی خبر اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کو دی تو آپ  نے بہت زیادہ گریہ کیا اور پھر پوچھا: یہ واقعہ کب پیش آیے گا؟
رسول خدا نے فرمایا: جب یہ واقعہ پیش آیے گا تو نہ میں رہوں گا،نہ علی اور نہ تم، یہ بات سن کر جناب فاطمہ نے اور زیادہ رونا شروع کردیاتو اس وقت رسول خدا نے فرمایا: امت کے مرد اور عورتیں کربلا کے شہداء اور اہل بیت  کی عورتوں کے مصائب پر گریہ وزاری اور عزاداری کریں گے اور آپ نے ان پر رونے کے ثواب کو بیان کیا (١) ۔

حوالہ جات:

1. بحارالانوار، ج 43، ص 239. مرحوم طبرسى نيز اين حديث را در «اِعلام الورى بأعلام الهدى»، ج 1، ص 427 و شيخ سليمان قندوزى حنفى در كتاب «ينابيع المودّة»، ج 2، ص 300 نقل كرده اند.
2 . بحارالانوار، ج 44، ص 252 (با تلخيص).
3 . همان مدرك، ص 292 (با تلخيص).
4. آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا سے اقتباس ، صفحہ 58.

2:21 صبح مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔