دہشتگردی کیخلاف جنگ میں گھرا پاکستان یمن جنگ کا حصہ بن گیا
تحریر: (ایس اے زیدی)
پاکستان عرصہ دراز سے دہشتگردی کا بری طرح شکار ہے، جس کے اثرات پاراچنار میں ہونے والے ریمورٹ کنڑول بم دھماکہ کی صورت میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف اس جنگ میں 80 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد شہید ہوچکے ہیں، تاہم اب تک اس سلسلے کو روکنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔
جبکہ دوسری طرف پاکستان کے 5 ہزار سے زائد فوجی آل سعود حکومت کا دفاع کرنے کیلئے یمن کی سرحدوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اس امر کی تصدیق مختلف ملکی و غیر ملکی میڈیا ادارے کر چکے ہیں۔ یعنی اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان باقاعدہ طور پر یمن جنگ کا حصہ بن چکا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوج کے سابق سالار جنرل (ر) راحیل شریف بھی چند روز قبل اپنی ’’نئی نوکری‘‘ کو جوائن کرنے کیلئے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ مڈل ایسٹرن آئی نامی آن لائن نیوز ایجنسی میں چھپنے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھیج دی ہے، جو اس ملک کے جنوبی صوبے میں تعینات کی جائے گی۔ پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر ابھی تک اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب کے یمن پر حملہ آور ہونے کے بعد ایک مخصوص عقیدہ کی مذہبی جماعتوں نے سعودی عرب نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے ’’تحریک تحفظِ حرمین شریفین‘‘ کے عنوان سے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد یمن کے عوام کو دہشتگرد اور اسلام کا دشمن قرار دیتے ہوئے آل سعود کا تحفظ کرنا تھا۔ اس تحریک کے رہنماء حافظ انیب فاروقی نے پاکستان کی جانب سے سعودی عرب فوجی بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ میڈیا پر آنے والے بیان کے مطابق انیب فاروقی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پوری اسلامی دنیا کا محور و مرکز ہے۔ حرم شریف کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس فیصلے کے ساتھ ہیں۔ اگر سعودی عرب کی جغرافیائی وحدت پر کوئی آنچ آتی ہے تو پاکستان کو اس ملک کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارے خیال میں فوج بھیجنے سے کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پاکستان میں سر نہیں اٹھائے گی۔ یہ سب پروپیگنڈہ ہے۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان ہمیشہ سے یمن جنگ کے حوالے سے غیر جانبدار کردار ادا کرنے اور اس جنگ میں خود کو شامل نہ کرنے کی یقین دہانی کراتی آئی ہے۔
علاوہ ازیں پارلیمنٹ نے اس سے قبل بھی سعودی عرب فوج بھیجنے کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اپنے پانچ ہزار فوجیوں کو سعودی عرب اور یمن کی سرحدوں پر تعینات کئے جانے کا مقصد یمنی رضاکار فورس کے حملوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بارہ سو پاکستانی فوجی سعودی عرب میں سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی فوجی اتحاد اور یمن جنگ میں شمولیت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے، جب پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں اور متعدد شخصیات نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے سنجیدہ اور محب وطن حلقوں کا خیال ہے کہ سعودی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں اس 41 ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کی بنیاد 16 دسمبر 2015ء کو رکھی گئی تھی، تاہم اب تک اس اتحاد کے مقاصد، خدوخال، ڈھانچہ اور گائیڈ لائن واضح نہیں ہوسکی۔ سعودی عرب نے گذشتہ سال پاکستان کی مشاورت سے جنرل راحیل شریف کے اس اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تقرر کا اعلان کیا تھا۔
کئی مسلم ممالک اس اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم قابل ذکر امر یہ ہے کہ یہ اتحاد بظاہر داعش کیخلاف تشکیل دیا جا رہا ہے، تاہم اس اتحاد میں داعش کیخلاف عملی طور پر نبرد آزما ممالک یعنی ایران، شام، عراق اور لبنان کو شمولیت کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں ملیشیاء ایک ایسا ملک ہے، جس نے اس اتحاد میں شمولیت سے باقاعدہ طور پر انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کی معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگیا ہے، جن کے داعش سے تعلقات ہیں۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج راحیل شریف کی قیادت میں پاکستانی فوج کا دستہ یمن کی سرحدوں پر پہنچ گیا ہے اور پاکستانی قوم کو بتائے بغیر یمن جنگ میں شامل ہوگیا ہے۔ پاکستان ان ممالک کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگیا ہے، جن کے داعش سے تعلقات ہیں اور داعش کے دہشتگرد ان ممالک سے اس تنظیم میں شامل ہوئے، تاہم جو ممالک ایران، شام، یمن اور عراق داعش سے لڑ رہے ہیں، ان ممالک کو اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا۔ عاصمہ شیرازی نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی اس ملک میں بہت عزت تھی، لیکن اب ان کو اس نوکری کی وجہ سے وہ مقام کھونا پڑے گا۔ پاکستان میں شیعہ، سنی مل کر رہتے ہیں، لیکن اب کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان میں سعودی عرب جیسا ملک فرقہ وارانہ فساد کرنے کے لئے فنڈنگ کرتا ہے








